உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: جملہ 203 نوبل انعام یافتگان نے دی یہ بڑی وارننگ! دنیا میں دوڑے گی خونی لہر

    Youtube Video

    جملہ 203 نوبل انعام یافتگان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ’’روسی حملہ آنے والی دہائیوں تک روسی ریاست کی بین الاقوامی ساکھ کو داغدار کر دے گا۔ یہ اس کی معیشت میں رکاوٹیں کھڑی کرے گا اور اس کی آبادی کو مشکلات سے دوچار کرے گا۔ عائد پابندیاں دنیا میں اس کے باصلاحیت اور محنتی لوگوں کی نقل و حرکت میں آسانی کو محدود کر دے گی۔ روس اور دنیا کے درمیان اس باڑ کو اب کیوں بڑھایا جائے؟‘‘

    • Share this:
      روسی افواج کی جانب سے یوکرین پر فوجی حملوں کا سلسلے اب تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے۔ جو کہ تادم تحریر جاری ہے۔ اس دوران دنیا بھر کے جملہ 203 نوبل انعام یافتگان نے بڑی وارننگ دی ہے۔ یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے 203 نوبل انعام یافتہ شخصیات نے دستخط شدہ خط جاری کیا ہے۔

      خط میں نوبل انعام یافتگان نے یوکرینی عوام کی حمایت کا اظہار کیا اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن (Vladimir Putin) کی جانب سے یوکرین پر مہلک جنگ تھوپے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ جملہ 203 نوبل انعام یافتگان نے روسی جنگ کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور روس پر زور دیا کہ وہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرے۔

      ان شخصیات نے جو خط جاری کیا ہے، اس کا مکمل متن یہاں پیش ہے:

      تمام نوبل انعام یافتگان کی جانب سے دستخط شدہ خط میں ہم اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یوکرینی عوام اور یوکرین کی آزاد و خود مختار ملک کے لیے ہماری طرف سے حمایت جاری ہے۔ کیونکہ اسے (یوکرین کو) روسی جارحیت کا سامنا ہے۔

      جاری کردہ خط کا عکس
      جاری کردہ خط کا عکس


      اس اقدام میں جو 1939 میں پولینڈ پر نازی جرمنی کے بدنام زمانہ حملے کو یاد کرتا ہے، جس میں اسی طرح کی سازشوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ اب صدر پوتن کی قیادت میں روسی فیڈریشن کی حکومت نے بلا اشتعال فوجی جارحیت شروع کی ہے۔ اس کے پڑوسی یوکرین کے خلاف جنگ کے سوا کچھ نہیں۔ ہم یہاں اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ اس جارحیت میں روسی عوام کا کوئی کردار ہے۔

      مزید پڑھیں: Ukraine Russia War:یوکرین سے 22,500 سے زیادہ ہندوستانیوں کو نکالا گیا، 15-20 اب بھی پھنسے

      ہم ان فوجی کارروائیوں اور صدر پوتن کے یوکرین کے وجود کے جواز سے انکار کی مذمت میں شامل ہیں۔ تنازعات کو حل کرنے کا ہمیشہ پرامن طریقہ ہوتا ہے۔ روسی حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تمام ارکان اپنے بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔ یہ 1994 کے بڈاپسٹ میمورنڈم کو نظر انداز کرتا ہے، جس نے روس اور دیگر کو یوکرین کی خودمختاری، آزادی اور موجودہ سرحدوں کا احترام کرنے کا پابند کیا تھا۔

      روس کے سیکورٹی خدشات کو اقوام متحدہ کے چارٹر 1975 کے ہیلسنکی فائنل ایکٹ اور 1990 کے پیرس چارٹر کے فریم ورک کے اندر حل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ کرنا جیسا کہ صدر پوتن اور ان کے ساتھیوں نے کیا ہے، مستقبل کے لیے ایک غیرضروری اور خونی لہر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ روسی حملہ آنے والی دہائیوں تک روسی ریاست کی بین الاقوامی ساکھ کو داغدار کر دے گا۔ یہ اس کی معیشت میں رکاوٹیں کھڑی کرے گا اور اس کی آبادی کو مشکلات سے دوچار کرے گا۔ عائد پابندیاں دنیا میں اس کے باصلاحیت اور محنتی لوگوں کی نقل و حرکت میں آسانی کو محدود کر دے گی۔ روس اور دنیا کے درمیان اس باڑ کو اب کیوں بڑھایا جائے؟

      Crude Oil پر مودی حکومت کی مشکل: روس سے سستاخام تیل خریدنے کی خواہش پرامریکہ نے کیاخبردار

      سیکڑوں یوکرینی فوجی، روسی فوجی اور یوکرینی شہری جن میں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بہت افسوسناک ہے، یہ سب غیر ضروری ہے۔ ہم اس اپیل میں جمع ہو کر روسی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین پر اپنے حملے کو روکے اور اپنی فوجی افواج کو یوکرین سے نکالے۔

      ہم یوکرین کے عوام کے سکون اور طاقت کا احترام کرتے ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہمارے دل ان سب کے اہل خانہ اور دوستوں، یوکرینیوں اور روسیوں کے لیے بے چین ہیں، جو پہلے ہی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ہماری اس خوبصورت سرزمین پر امن کے ہم سب خواہشمند ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: