ہوم » نیوز » عالمی منظر

طالبان نے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ کی بربریت، جسم پر تھے گولیوں اور ٹائر کے نشان: رپورٹ

نیویارک ٹائمس نے افغانستان میں موجود ہندوستانی افسران اور افغانی صحت افسران کی طرف سے مہیا کرائی گئی تصاویر کا کئی بار مطالعہ کیا ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ برا برتاو کیا گیا تھا۔

  • Share this:
طالبان نے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ کی بربریت، جسم پر تھے گولیوں اور ٹائر کے نشان: رپورٹ
طالبان نے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ کی بربریت، جسم پر تھے گولیوں اور ٹائر کے نشان: رپورٹ

کابل: پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کی افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) نے 16 جولائی کو قتل کردیا تھا۔ اب افسران کا کہنا ہے کہ ان کا قتل بے رحمی سے کیا گیا تھا۔ ان کی لاش کے ساتھ بے حد برا برتاو کیا گیا تھا۔ دانش صدیقی کو سال 2018 میں نیوز ایجنسی رائٹرس کے لئے کام کرنے کے دوران پلٹزر ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا تھا اور 16 جولائی کو پاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے قصبے اسپین بولدک میں ان کا قتل کردیا گیا تھا۔ قتل کے وقت وہ افغان کی اسپیشل فورسیز کے ساتھ تھے۔


جائے حادثہ کی تصاویر دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ ان کے جسم پر چوٹ کے کئی زخم تھے، لیکن اسی دن جب ان کی لاش ریڈ کراس کو سونپی گئی اور قندھار کے ایک اسپتال میں لے گئے تو اس دوران لاش بہت بری حالت میں تھی۔ یہ دعویٰ وہاں موجود دو ہندوستانی افسران اور دو افغانی صحت افسران کے حوالے سے کیا گیا ہے۔


 قندھار میں موجود ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ دانش صدیقی کی لاش شہر کے اہم اسپتال میں رات 8 بجے پہنچی تھی۔ اس دوران بھی ان کے جسم پر پریس لکھی جیکیٹ تھی۔ لیکن ان کا چہرہ پہچاننا مشکل تھا۔

قندھار میں موجود ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ دانش صدیقی کی لاش شہر کے اہم اسپتال میں رات 8 بجے پہنچی تھی۔ اس دوران بھی ان کے جسم پر پریس لکھی جیکیٹ تھی۔ لیکن ان کا چہرہ پہچاننا مشکل تھا۔


نیویارک ٹائمس نے افغانستان میں موجود ہندوستانی افسران اور افغانی صحت افسران کی طرف سے مہیا کرائی گئی تصاویر کا کئی بار مطالعہ کیا ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ برا برتاو کیا گیا تھا۔ ایک ہندوستانی افسر نے یہ بھی کہا ہے کہ دانش صدیقی کے جسم پر گولیوں کے ایک درجن سے زیادہ نشان تھے۔ ساتھ ہی ان کے چہرے اور سینے پر ٹائر کے بھی نشان تھے۔

قندھار میں موجود ایک صحت افسر کا کہنا ہے کہ دانش صدیقی کی لاش شہر کے اہم اسپتال میں رات 8 بجے پہنچی تھی۔ اس دوران بھی ان کے جسم پر پریس لکھی جیکیٹ تھی۔ لیکن ان کا چہرہ پہچاننا مشکل تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سمجھ نہیں پائے تھے کہ لاش کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا ہے۔

وہیں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دانش صدیقی کی لاش کے ساتھ کسی بھی بربریت سے انکار کیا ہے۔ طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان کے جنگجووں کو یہ احکامات دیئے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی لاش کے ساتھ احترام سے پیش آئیں اور اسے مقامی بزرگوں یا ریڈ کراس کو سونپ دیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 01, 2021 11:16 AM IST