உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine War: یوکرین میں ہلاک شدہ ہندوستانی طالب علم کی لاش آج لائی جائےگی بنگلور، سائنسی تحقیقی کیلئے باڈی عطیہ کرنےکاوالدنےکیااعلان

    متوفی طالب علم کے والد نے سائنسی تحقیقی کیلئے باڈی عطیہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    متوفی طالب علم کے والد نے سائنسی تحقیقی کیلئے باڈی عطیہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بومئی کے حوالے سے بتایا کہ خارکیو میڈیکل یونیورسٹی (Kharkiv Medical University) کے میڈیکل کے آخری سال کے طالب علم نوین شیکرپا گیانا گودرم کی لاش جو یوکرین میں گولہ باری کے حملے میں ہلاک ہو گئی تھی، اتوار 20 مارچ کو بنگلورو ہوائی اڈے پر پہنچے گی۔

    • Share this:
      کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومائی (Basavaraj Bommai) نے کہا کہ اس ماہ کے شروع میں جنگ زدہ ملک یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی طالب علم کی لاش آج یعنی 20 مارچ 2022 کو بنگلورو لائی جائے گی۔ متوفی کی شناخت نوین شیکرپا گیاناگودرم (Naveen Shekarappa Gyanagoudarm) کے نام سے ہوئی ہے۔ جو یکم مارچ کو مشرقی یوکرین کے قصبے خارکیف میں فوجی گولہ باری میں ہلاک ہو گیا تھا۔ یہ 21 سالہ نوجوان کرناٹک کے ہاویری ضلع کے چلگیری گاؤں کا رہنے والا تھا۔

      خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بومئی کے حوالے سے بتایا کہ خارکیو میڈیکل یونیورسٹی (Kharkiv Medical University) کے میڈیکل کے آخری سال کے طالب علم نوین شیکرپا گیانا گودرم کی لاش جو یوکرین میں گولہ باری کے حملے میں ہلاک ہو گئی تھی، اتوار 20 مارچ کو بنگلورو ہوائی اڈے پر پہنچے گی۔

      خارکیف میں ان کے ایک ساتھی کے مطابق گیانا گودرم اس وقت فوجی گولہ باری میں مارا گیا جب وہ قریبی دکان سے ضروری اشیاء خریدنے نکلا تھا۔ ان کی موت یوکرین میں ہندوستانی طلبا میں رپورٹ ہونے والی پہلی ہلاکت ہے۔ جن کی تعداد تنازعہ شروع ہونے سے پہلے 18,000 کے قریب تھی۔ مرکزی حکومت نے پچھلے مہینے کے دوران کئی پروازوں کا انتظام کیا اور مرکزی وزرا کو پڑوسی ممالک میں تعینات کیا، تاکہ ان کے تیزی سے انخلاء کو یقینی بنایا جا سکے۔

      ’سائنس کے لیے لاش عطیہ کریں گے‘ یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی میڈیکل طالب علم کے والد

      یوکرین میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی میڈیکل طالب علم کے والد نے اپنے بیٹے کی باقیات طبی تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 21 سالہ نوین شیکرپا گیانا گودر کھرکیو نیشنل میڈیکل یونیورسٹی کا طالب علم تھا، جس نے روس کی جانب سے اندھا دھند بمباری کا مشاہدہ کیا تھا۔ روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر حملہ کر کے ہزاروں ہندوستانیوں کو، سابق سوویت ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا ہے۔ جن میں زیادہ تر طالب علم ہیں۔

      مزید پڑھیں: Cyclone: جزائرانڈمان و نکوبار میں سمندری طوفان Asani کا خدشہ، ’آسانی‘ سے متعلق یہ ہیں تمام تفصیلات

      مبینہ طور پر نوین کھانا خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہوئے اس وقت مارا گیا جب اس کے قریب گولہ گرا۔ وہ ان 18,000 طلباء میں سے ایک تھا جو طب کی تعلیم کے لیے یوکرین گئے تھے۔ شنکرپا نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ میرا بیٹا میڈیکل کے شعبے میں کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا، ایسا نہیں ہوا، کم از کم اس کے جسم کو میڈیکل کے دوسرے طلبا پڑھائی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اسی لیے ہم نے گھر پر ہی اس کا جسم طبی تحقیق کے لیے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      نوین کی لاش 21 مارچ کو بنگلورو پہنچے گی۔ نوین کرناٹک کے ہاویری ضلع کا رہنے والا تھا اور ریاستی حکومت نے خاندان کو 25 لاکھ روپے اور خاندان کے ایک فرد کو نوکری دینے کا وعدہ کیا ہے۔

      یہ بھی پڑھئے :  تین دن میں دوسرے صحافی کی موت، فاکس نیوز کیلئے کرتا تھا کام



      شنکرپا نے کہا کہ میرے بیٹے کی لاش 21 تاریخ کو صبح 3 بجے بنگلورو پہنچے گی۔ وہاں سے لاش صبح 9 بجے تک ہمارے گاؤں پہنچے گی۔ پھر ہم ویرا شیو روایت کے مطابق پوجا کریں گے۔ پھر ہم اسے عوام کے دیکھنے کے لیے رکھیں گے، اور پھر ہم لاش کو طبی مطالعہ کے لیے ایس ایس ہسپتال، داونگیرے کو عطیہ کریں گے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: