உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بورس جانسن نے برطانیہ کے وزیر اعظم عہدے سے دیا استعفیٰ

    Boris Johnson Resign: بطور وزیر اعظم بورس جانسن میں عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے 50 سے زیادہ وزرا اور اراکین پارلیمنٹ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 36 گھنٹے پہلے ہی وزیر بنائے گئے مشیل ڈونیلن نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

    Boris Johnson Resign: بطور وزیر اعظم بورس جانسن میں عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے 50 سے زیادہ وزرا اور اراکین پارلیمنٹ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 36 گھنٹے پہلے ہی وزیر بنائے گئے مشیل ڈونیلن نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

    Boris Johnson Resign: بطور وزیر اعظم بورس جانسن میں عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے 50 سے زیادہ وزرا اور اراکین پارلیمنٹ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ 36 گھنٹے پہلے ہی وزیر بنائے گئے مشیل ڈونیلن نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

    • Share this:
      لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے آخر کار جمعرات کو کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ حالانکہ نئے لیڈر کا انتخاب ہونے تک وہ وزیر اعظم کے عہدے پر بنے رہیں گے۔ ’ڈاوٹنگ اسٹریٹ‘ سے مل رہی خبروں میں پہلے ہی یہ بتا دیا گیا تھا کہ وہ وزیر اعظم عہدے سے استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔

      بورس جانسن (58) ’10 ڈاوننگ اسٹریٹ‘ کے انچارج بنے رہیں گے، جب تک کہ کنزرویٹیو پارٹی کے ایک اجلاس میں نئے لیڈر منتخب ہونے کا عمل پورا نہیں ہوجاتا۔ پارٹی کا اجلاس اکتوبر میں ہونے والا ہے۔ بطور وزیر اعظم بورس جانسن میں عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 50 سے زیادہ وزرا اور اراکین پارلیمنٹ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

      حکومت کے خلاف عدم اعتماد اس قدر بڑھتا جا رہا تھا کہ 36 گھنٹے پہلے ہی وزیر بنائے گئے مشیل ڈونیل نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ بدھ کی شام تک کابینہ کے 17 وزرا، 12 پارلیمانی سکریٹری اور بیرون ممالک میں مقرر حکومت کے 4 نمائندوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفیٰ دینے والے سبھی اراکین پارلیمنٹ اور وزرا نے بورس جانسن کے کام کرنے کے طریقوں، لاک ڈاون پارٹی اور کچھ لیڈران کے سیکس اسکینڈل کو موضوع بنایا ہے۔

      برطانیہ میں سیاسی بحران

      اس سے قبل برطانیہ میں سیاسی بحران گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ وزراء ایک کے بعد ایک استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم بورس جانسن پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بھی بڑھ گیا تھا۔ برطانوی میڈیا میں بھی خبریں آرہی تھیں کہ بورس جانسن بھی جلد استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کہا جا رہا تھا کہ بورس جانسن استعفیٰ دینے کو تیار ہیں تاہم انہوں نے نئے وزیر اعظم کی تقرری تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نئے وزیر خزانہ ندیم جاہوی نے بورس جانسن کو اپنی تقرری کے 24 گھنٹے کے اندر ہی عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ رشی سنک کے استعفیٰ کے بعد، جو وزیر خزانہ تھے، جانسن نے یہ عہدہ جاہاوی کو سونپا تھا۔ کابینہ کے ایک طاقتور وزیر مائیکل گوو نے بھی جانسن کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا، جس کے بعد بورس نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: