ہوم » نیوز » عالمی منظر

چین کی دھمکی: ہندستان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ کروڑوں کا کاروبار ہے

چین نے بھی ہندستان میں اس کے سامان کے بائیکاٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ چین نے کہا کہ ہمارے سامان ہندوستانی سماج کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں اور اب یہ کروڑوں کا کاروبار ہے۔

  • Share this:
چین کی دھمکی: ہندستان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یہ کروڑوں کا کاروبار ہے
چین نے بھی ہندستان میں اس کے سامان کے بائیکاٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ چین نے کہا کہ ہمارے سامان ہندوستانی سماج کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں اور اب یہ کروڑوں کا کاروبار ہے۔

بیجنگ: ہندستان۔چین سرحدی تنازعہ پر زبردست کشیدگی کے درمیان بھارت میں کئی تنظیمیں چینی سامان کی مخالفت کر رہی ہیں اور ان کا بائیکاٹ (Boycott Chinese Products) کرنے کیلئے کیمپئن بھی چلائے جارہے ہیں۔ دوسری طرف چین نے بھی ہندستان میں اس کے سامان کے بائیکاٹ پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ چین نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہندستان میں کچھ انتہائی قوم پرست ہمارے سامانوں کے خلاف افواہیں پھیلارہے ہیں لیکن ان کا بائیکاٹ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ چین نے کہا کہ ہمارے سامان ہندوستانی سماج کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں اور اب یہ کروڑوں کا کاروبار ہے۔

چینی رکاری میڈیا گلوبل ٹائمس میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے کہا کہا ہے کہ ہندستان کی کچھ انتہاپرست پارٹیاں مسلسل چین کو بدنام کرنے کی سازش رچ رہی ہیں۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ چین کے سامان کا بائیکاٹ کرنے کیلئے کیمپئن چلایا جارہا ہے لیکن ہم ہندستان کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ نقصان کا سودا ہے اور ایسا ممکن بھی نہیں ہے۔ چین نے بالی ووڈ فلم 3 ایڈیٹ فیم سانٹسٹ سونم وانگچک کے ذریعے جاری کئے گئے ویڈیو اور 'ریموو چائنیز ایپ' نام کی ایپلیکیشن کو لیکر بھی سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ حالانکہ بتادیں کہ اس ایلیکیشن کو چین کی شکایت کے بعد گوگل پلے اٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دعوے کے مطابق اس ایپ کو ایسے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ چین میں بنے سبھی ایپلیکیشن کو سلیکٹ کرکے آپ کے اسمارٹ فون سے ہٹا(Delete) دیتا تھا۔




گلوبل ٹائمس (Global Times) میں چھپے اس مضمون کے مطابق ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی تنازعہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ اتنا سنجیدہ نہیں ہے جتنا بھارت میں نظریاتی افراد بڑھا۔چڑھاکر بتارہے ہیں۔ دونوں حکومتیں مسلسل بات کررہی ہیں اور ہندوستانی حکومت کا رویہ مثبت ہے۔ چین نےہندستانی میڈیاپر کچھ انتہا رست لیڈران کو پورے حالات کو بڑھا۔چڑھاکر پیش کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔


چین نے الزام لگایا ہے کہ اس کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔ شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ریسرچ فیلو ژاؤ گنچینگ کے مطابق ہندستان میں چین کے خلاف غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ممالک کے مابین کروڑوں کی تجارت ہوئی ہے اور اس کا بیشتر حصہ ہندستان نے درآمد (Import) کیا ہے۔


چین مسلسل کہہ رہا ہے کہ کوروناوائرس اور لاک ڈاؤن کے چلتے پہلے ہی دونوں ممالک کی معیشت پر بھاری بوجھ ہے ایسے میں چینی سامان کی مخالفت کرکے ہندستان پربوجھ بڑھنے ہی والا ہے کیونکہ زیادہ تر کفایتی سامان چین سے ہی درآمد (Import)  کیا جاتا ہے۔ چینی انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل رلیشن کے ساؤتھ ایشین انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر لوؤ چنہاؤ کے مطابق ہندستانیوں کیلئے فی الحال چینی سامان کا بائیکات کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہندوستان کے انفرااسٹرکچر کو دوبارہ بنانا چاہتی ہے جو کہ اس وقت ہندستان کی جی ڈی پی کا صرف 16 فیصد ہی ہے لیکن چینی سامان کے بائیکاٹ  (Boycott Chinese Products) کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔ اس وقت ایسا نہیں ہے۔ بتادیں کہ ہندوستانی اسمارٹ فون مارکیٹ کا 72٪ چینی کمپنیوں کے قبضے میں ہے۔ ٹی وی کے معاملے میں یہ حصہ 45فیصدی ہے جبکہ روزمرہ کی اشیاء میں یہ حصہ 70 سے 80 فیصد تک جاسکتا ہے۔
First published: Jun 09, 2020 10:58 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading