உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیوزی لینڈ: مسجد میں فائرنگ سے 49 لوگوں کی موت، بندوق پر کیمرہ لگاکر گولیاں برسا رہا تھا حملہ آور

    نیوزی لینڈ کے کرائسٹچرچ کی دو مسجدوں پر حملے میں کم از کم 40 لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ جبکہ 27 زخمی بتائے جارہے ہیں۔ سینٹرل کرائسٹ چرچ میں انتظامیہ نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے کو کہا ہے۔ وہیں نیزی لینڈ کی وزیر اعظم نے مسجد میں فائرنگ کے واقعے کو کالادن بتایا ہے۔

    نیوزی لینڈ کے کرائسٹچرچ کی دو مسجدوں پر حملے میں کم از کم 40 لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ جبکہ 27 زخمی بتائے جارہے ہیں۔ سینٹرل کرائسٹ چرچ میں انتظامیہ نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے کو کہا ہے۔ وہیں نیزی لینڈ کی وزیر اعظم نے مسجد میں فائرنگ کے واقعے کو کالادن بتایا ہے۔

    نیوزی لینڈ کے کرائسٹچرچ کی دو مسجدوں پر حملے میں کم از کم 40 لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ جبکہ 27 زخمی بتائے جارہے ہیں۔ سینٹرل کرائسٹ چرچ میں انتظامیہ نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے کو کہا ہے۔ وہیں نیزی لینڈ کی وزیر اعظم نے مسجد میں فائرنگ کے واقعے کو کالادن بتایا ہے۔

    • Share this:
      نیوزی لینڈ کے کرائسٹچرچ کی دو مسجدوں  میں جمعہ کو گولی باری ہوئی ۔  اس حملے میں کم از کم 49 لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ جبکہ 27 زخمی بتائے جارہے ہیں۔ حملہ آور بندوق پر کیمرہ لگاکر گولیاں برسا رہا تھا۔  نیوزی لینڈ کی ویب سائٹ این زیڈ ہیرالڈ ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں موتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے ۔ بتایاجارہا ہے کہ حملہ آوروں نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سر پر ہیلمیٹ لگائے ہوئے ہیں۔ نیوزی لیںڈ کی پولیس نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔ پولیس نے ایک مشتبہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حملہ آوروں کو جواب دے رہی ہے۔ سینٹرل کرائسٹچرچ میں انتظامیہ نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے کو کہا ہے۔
      نیوزی لینڈ پولیس نے حملے بعد ایڈوائزری جاری کی ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ابھی اس وقت کسی بھی مسجد میں نہ جائیں۔
      رپورٹ کے مطابق حملہ آور ابھی بھی فائرنگ کر رہا ہے۔ بتایاجاریا ہے کہ فائرنگ کے دوران حملہ آور فیس بک لائیو رہا۔

      اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔  مقامی میڈیا نے بتایا کہ اس میں کچھ لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور باقی لوگوں کے بارے میں پتہ لگایا جارہا ہے۔ ایک چشمدید نے بتایا کہ مسجد میں فائرنگ کی وجہ سے کافی لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ ایک بنگلہ دیشی صحافی محمد اسلام نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم اس حادثے میں بال۔بال بچ گئی۔ مسجد ہگلے پارک نزدیک ہے۔ یہیں پر شوٹنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ پوری ٹیم ہیگلے پارک سے بھاگ کر اوول پہنچ گئی۔



      بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیون نے بھی کنفرم کیا کہ وہ لوگ محفوظ ہیں۔ ایک چشم دید لین پینہا نے بتایا کہ اس نے ایک آدمی کو کالے کپڑے پہنے ہوئے مسجد النور کے اندر جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے بعد میں نے درجنوں گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں۔ گولیاں چلنے کی وجہ سے مسجد کے اندر موجود لوگ بھاگنے لگے۔



      نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈ آرڈن نے مسجد میں فائرنگ کے واقعے کو ملک کا  کالادن بتایا ہے۔ ساتھ ہی لوگوں کو محفوظ جگہ رہنے کی درخواست کی ہے۔



      First published: