ہوم » نیوز » عالمی منظر

بڑی خبر: سرحد پر چین کی ہر چال ہوگی ناکام! 7 فوجی ہوائی اڈوں پر ہندستان کی سخت نگاہیں

ہندستان اور چین کے درمیان تنازعہ (India-China Tension) کرنے کیلئے سیاسی سطح پر بات چیت جاری ہے لیکن ہندستانی فوج (Indian Army) کے رخ سے چین اس طرح سے گھبرایا کہ اس نے ایل اے سی پر اپنی نگرانی کو بڑھادیا ہے۔

  • Share this:
بڑی خبر: سرحد پر چین کی ہر چال ہوگی ناکام! 7 فوجی ہوائی اڈوں پر ہندستان کی سخت نگاہیں
ہندستان اور چین کے درمیان تنازعہ (India-China Tension) کرنے کیلئے سیاسی سطح پر بات چیت جاری ہے لیکن ہندستانی فوج (Indian Army) کے رخ سے چین اس طرح سے گھبرایا کہ اس نے ایل اے سی پر اپنی نگرانی کو بڑھادیا ہے۔

ہندستان اور چین کے درمیان تنازعہ (India-China Tension) کرنے کیلئے سیاسی سطح پر بات چیت جاری ہے لیکن ہندستانی فوج (Indian Army)  کے رخ سے چین اس طرح سے گھبرایا کہ اس نے ایل اے سی پر اپنی نگرانی کو بڑھادیا ہے۔ چین کے اس قدم کے  بعد ہندستانی ایجنسیوں کے ذریعے پیپلز لبریشن آرمی ( Peoples Liberation Army)  کی ایئر فورس (PLAAF) کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھی جارہی ہے۔ نیوز ایجنسی ANI  کی رپورٹ کے مطابق ہندستانی ایجنسیوں نے شن جیانگ اور تبت علاقے میں چینی ایئر فورس کے ہوٹن، گرگنسا، کاش گھر، ہووپنگ، ڈونکا ڈونگ، لنجھی اور پنگت ایئر بیس پر سخت نظر رکھی ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ایئر بیسوں پر حال ہی میں سرگرمی بڑھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی فوج نے حال ہی کے دنوں میں کئی ٹھکانوں کو اپ گریڈ کیا ہے۔ ان ٹھکانوں میں زیادہ لوگوں کو ٹھہرنے، رن وے کی لمبائی میں توسیع اور دیگر سدھار کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے کہا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں کے سامنے لائنزی  ایئربیس بنیادی طور سے ایک  ہیلی کاپٹر کا اڈہ ہے  اور چین نے وہاں اپنی نگرانی کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے ان علاقوں میں ہیلی پیڈ کا جال بچھایا ہے۔ اس کے ساتھ لڑاکا طیارے بھی تعینات کردیئے گئے ہیں۔


ہندستان نے کسی اپنی کمر۔

چینی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے  ہندوستانی فضائیہ نے ایل اے سی (LAC ) پر سکھوئی ، مگ 29 ، میراج -2000 کے اور اپاچے ہیلی کاپٹروں کو تعینات کردیا ہے اور آپریشنبھی شروع کردیا ہے۔ صرف یہی نہیں  ہندوستانی فضائیہ نے اپنا جدید جنگی ہیلی کاپٹر اپاچے بھی فارورڈ بیس پر تعینات کیا ہے۔


دیپسانگ کو چینی فوج نے بنایا ٹھکانہ
اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ دیپسانگ علاقے میں چین نے 2000 میں ہی اپنا فوجی ٹکانہ اپنا لیا تھا۔ اووپن سورس انٹیلیجینس  @detresfa نے سٹٰلائٹ تصویریں جاری کرکے دعوی کیا تھا کہ اس علاقے میں چینی  فوج نے آج سے بیس سال پہلے ہی اپنا بیس بنا لیا تھا۔ دیپ سانگ علاقے میں چین نے 2013  میں دراندازی کی تھی تب ہندستانی فوج نے چین کو پیچھے کھدیڑ دیا تھا۔
Published by: sana Naeem
First published: Aug 20, 2020 08:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading