ہوم » نیوز » عالمی منظر

بڑی خبر: بنگلہ دیش میں ریپ متاثرہ کی موت پر مجرموں کو ہوگی سزائے موت

بنگلہ دیش کی کابینہ نے پیر کو عصمت دری (Rape and Murder) کے معاملوں میں میں زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر پھانسی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت (Bangladesh Government) گزشتہ دنوں ہوئی عصمت دری کے ایک واقعے کو لیکر ملک میں ہنگامہ مچنے کے بعد یہ فیصلہ لینے جارہی ہے کہ ریپ کے معاملوں میں عمر کی سزا بڑھا کر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

  • Share this:
بڑی خبر: بنگلہ دیش میں ریپ متاثرہ کی موت پر مجرموں کو ہوگی سزائے موت
بنگلہ دیش میں ریپ متاثرہ کی موت پر مجرموں کو ہوگی سزائے موت

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی کابینہ نے  پیر کو عصمت دری (Rape and Murder) کے معاملوں میں میں زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر پھانسی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت (Bangladesh Government) گزشتہ دنوں ہوئی عصمت دری کے ایک واقعے کو لیکر ملک میں ہنگامہ مچنے کے بعد یہ فیصلہ لینے جارہی ہے کہ ریپ کے معاملوں میں عمر کی سزا بڑھا کر سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ حکومت کے ترجمان کھانڈا کار انورالاسلام نے کہا کہ صدر عبد الحامد نے ایک آرڈیننس جاری کرکے خواتین اور بچوں کے (Harassment) کو روکنے (Women and Children Repression Prevention Act) سے متعلق قواعد کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر کو اس ضمن میں ایک آرڈیننس لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چل رہا ہے۔


عصمت ریزی کے معاملات کی سماعت جلد پوگی مکمل: حکومت

ترجمان انورالاسلام نے کہا کہ قواعد میں کیا تبدیلیاں کی گئیں ہیں اس کی تفصیلات ابھی تک موصول نہیں ہوسکیں ہیں ، لیکن حکومت اس بات پر متفق ہے کہ عصمت دری کے معاملات کا سپیڈ ٹرائل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ قانون میں ریپ کے واقعات میں ملوث مجرموں کو زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر عمر قید کی سزا ملتی ہے۔ موجودہ قانون میں اگر عصمت دری کی شکار متاثرہ کی موت ہو جاتی ہے تو مجرموں کو سزائے موت دی جاسکتی ہے۔


آج جاری کیا جائے گا آرڈیننس
بنگلہ دیش کے وزیر قانون انیس الحق نے کہا کہ توقع ہے کہ صدر منگل کو اس سلسلے میں کوئی آرڈیننس جاری کریں گے۔ در حقیقت ، ایک ہفتے کے اندر ، بنگلہ دیش میں عصمت دری کے متعدد پُرتشدد واقعات پیش آئے۔ اس کے بعد ملک کے راجدھانی ڈھاکہ میں لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے لگائے۔

بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی تنظیم کے گروپ نے کہا ہے کہ ملک میں عصمت دری کے واقعات بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ خواتین کی انسانی حقوق کی تنظیم این او سالیش سنٹر کا کہنا ہے کہ جنوری اور اگست کے درمیان ، ملک میں 889 خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے ، ان میں سے 41 خواتین عصمت دری کی شکار ہوئیں اور موت ہوچکی ہے۔ ان خواتین کی بھی موت ، ریپ کے دوران بھی ریپ کے مجرموں نے تشدد برپا کیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بہت سے زیادتی کے معاملے دبنگ لوگوں کے ظلم و ستم کے خوف سے پولیس میں رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے ہیں۔ وہیں دوسری طرف بنگلہ دیش کا عدالتی نظام ان معاملات کو سلجھانے میں کئی سال لگاتدیتا ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 13, 2020 03:33 PM IST