ہوم » نیوز » عالمی منظر

پہلی بار لیب میں تیار ہوا ماں کا دودھ، جلد بکے گا بازار میں ایک خاتون کا انوکھا بزنس آئیڈیا

بایو ملک (Biomilk) نامی ایک اسٹارٹ اپ نے لیب میں انسانی دودھ ( Breast Milk has been formulated in lab) تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

  • Share this:
پہلی بار لیب میں تیار ہوا ماں کا دودھ، جلد بکے گا بازار میں ایک خاتون کا انوکھا بزنس آئیڈیا
بایو ملک (Biomilk) نامی ایک اسٹارٹ اپ نے لیب میں انسانی دودھ ( Breast Milk has been formulated in lab) تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

کسی بھی نوزائیدہ بچے کے جسمانی اور ذہنی ترقی کیلئے مان کا دودھ بہترین سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک کوئی متبادل نہیں مل سکا۔ تاہم ، اب ان بچوں کو بریسٹ کا دودھ (World’s First Human Breast Milk) مہیا کرانے کی تیاری ہو چکی ہے جنہیں ماں کے بایو لوجیکل وجوہات کی وجہ سے یہ نہیں مل پاتا تھا۔

بایو ملک (Biomilk) نامی ایک اسٹارٹ اپ نے لیب میں انسانی دودھ ( Breast Milk has been formulated in lab) تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ زیادہ تر خواتین ملازمین کے ساتھ اس کمپنی کے تیار کردہ دودھ کو بڑی حد تک ماں کے دودھ کا متبادل مانا جاسکتا ہے۔ اس دودھ کو خواتین کی چھاتی کی خلیوں (female breast cells) کے ذریعے اس دودھ کو تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ تمام غذائیت والے عنصر دودھ میں پائے گئے ہیں جو ماں کے دودھ میں ہوتے ہیں۔

فارمولہ ملک سے الگ ہے یہ دودھ

کمپنی کا کہنا ہے کہ میکرونیوٹریئینٹ پروفائل (macronutrient profile) کے حساب سے دیکھا جائے تو اس دودھ میں ہر قسم کے پروٹین، کاربوہائیڈریٹ، فیٹی ایسڈ اور بایو ایکٹو لیپڈس موجود ہیں۔ عام طور پر یہ سب چیزیں ماں کے دودھ میں پائی جاتی ہیں۔ صرف اس دودھ میں چھاتی کے دودھ کی طرح اینٹی باڈیز نہیں ہوتی ہیں۔ حالانکہ اس کے بغیر بھی کمپنی کا دعوی ہے کہ ان کا پروڈکٹ کافی بہتر ہے اور بریسٹ کے دودھ سے بہت ملتا جلتا ہے۔ یہ بچے کے مدافعتی نظام کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔ آنتوں اور دماغ کی ترقی میں بھی یہ دوسرے پروڈکٹ سے زیادہ مدد پہنچائے گا۔


تین سال کے اندر پہنچ جائے گا بازار تک
اس اسٹارٹ اپ کو شروع کرنے والی بایو لاجسٹ ڈاکٹر اسٹرک لینڈ (Dr Leila Strickland) کا کہنا ہے کہ انہیں یہ آئیڈیا خود ماں بننے کے بعد آیا۔ انہوں نے ایک پری مچیور بچے کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں بریسٹ ملک مہیا کرانے کو لیکر انہیں کافی دقت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود سال 2013 میں ہی خواتین کی چھاتی کی خلیات لیب میں ڈیولوپ (World’s first cell cultured human milk outside of the breast) کرنا شروع کر دیا۔ سال 2019 میں انہوں نے فوڈ سائنسدان مشیر ایگر کے ساتھ مل کر اسٹارٹ اپ کی شروعات کی۔ اب ان کا پروڈکٹ 3 سال کے اندر بازار میں آجائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد بریسٹ فیڈنگ کو ختم کرنا بالکل نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خواتین کو بہتر متبادل مہیا کرایا جا سکے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 05, 2021 12:33 PM IST