உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برطانیہ کے وزیر اعظم Boris Johnson استعفیٰ دینے کو تیار، لیکن رکھی یہ بڑی شرط

    Youtube Video

    رپورٹ کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ بورس جانسن استعفیٰ دینے کو تیار ہیں تاہم انہوں نے نئے وزیر اعظم کی تقرری تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    • Share this:
      برطانیہ میں سیاسی بحران گہراتا جا رہا ہے۔ وزراء ایک کے بعد ایک استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم بورس جانسن پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن بھی جلد استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ بورس جانسن استعفیٰ دینے کو تیار ہیں تاہم انہوں نے نئے وزیر اعظم کی تقرری تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

      جانسن کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ ؎۔
      رپورٹ کے مطابق نئے وزیر خزانہ ندیم جاہوی نے جانسن کو اپنی تقرری کے 24 گھنٹے کے اندر ہی عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ رشی سنک کے استعفیٰ کے بعد، جو وزیر خزانہ تھے، جانسن نے یہ عہدہ جاہاوی کو سونپا تھا۔ کابینہ کے ایک طاقتور وزیر مائیکل گوو نے بھی جانسن کو عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ جس کے بعد بورس نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

      50 سے زائد وزراء اور ارکان اسمبلی کے استعفے
      اب تک 50 سے زائد وزراء اور ارکان اسمبلی مستعفی ہو چکے ہیں۔ حکومت کے خلاف بداعتمادی اس قدر بڑھ رہی ہے کہ 36 گھنٹے قبل وزیر بننے والی مشیل ڈونیلن نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

      Mohammad zubair کو ملے گی ضمانت؟ ضمانت عرضی پر کل سپریم کورٹ میں سماعت

      VIVO کے دفتر میں ED کے چھاپے سے بھڑکا چین، کہا۔ کمپنیوں کا بھروسہ ٹوٹے گا

       

      بدھ کی شام تک کابینہ کے 17 وزراء، 12 پارلیمانی سیکریٹریز اور 4 غیر ملکی حکومت کے نمائندے مستعفی ہو چکے ہیں۔ استعفیٰ دینے والے تمام ممبران پارلیمنٹ اور وزراء نے جانسن کے کام کرنے کے انداز، لاک ڈاؤن پارٹی اور کچھ لیڈروں کے سیکس اسکینڈل کو مسئلہ بنایا ہے۔



      کابینہ میں بغاوت کے باوجود جانسن اپنے عہدے پر برقرار رہنے پر بضد تھے تاہم برطانیہ کی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جانسن کسی بھی وقت استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ اس سے قبل بورس جانسن نے دعویٰ کیا کہ انہیں اب بھی کابینہ کے بیشتر ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: