ہوم » نیوز » عالمی منظر

بریگزیٹ کے نتائج سے موافقین و مخالفین دونوں حیران ، مگر روس خوش

لندن : بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے علاحدگی کے تعلق سے ہر چند کہ برطانوی شہریوں نے تاریخی ریفرنڈم میں انخلا کے حق میں فیصلہ سنایا لیکن یہ فیصلہ سنانے والے بظاہر اس کے نتائج سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے

  • UNI
  • Last Updated: Jun 25, 2016 06:54 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بریگزیٹ کے نتائج سے موافقین و مخالفین دونوں حیران ، مگر روس خوش
لندن : بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے علاحدگی کے تعلق سے ہر چند کہ برطانوی شہریوں نے تاریخی ریفرنڈم میں انخلا کے حق میں فیصلہ سنایا لیکن یہ فیصلہ سنانے والے بظاہر اس کے نتائج سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے

لندن : بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے علاحدگی کے تعلق سے ہر چند کہ برطانوی شہریوں نے تاریخی ریفرنڈم میں انخلا کے حق میں فیصلہ سنایا لیکن یہ فیصلہ سنانے والے بظاہر اس کے نتائج سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے۔ یہ انکشاف ان سوالات سے ہوتا ہے جو گوگل سرچ بار پر برطانوی عوام کی جانب سے کئے جا رہے ہیں۔ رجحانات کا پتہ دینے والےگوگل آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق برطانوی عوام نے سب سے زیادہ جو سوال پوچھا ہے وہ یہ ہے کہ یوروپی یونین سے ان کی علاحدگی کے بعد کیا ہوگا؟'

یہ رجحان مظہر ہے کہ زیادہ تر برطانوی شہریوں کو ریفرنڈم اور اپنے ووٹ سے مرتب ہونے والے اثرات کا پتہ نہیں تھا۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد کا منظر نامہ انہیں حیران کر گیااور وہ اپنے تذبذب اور اضطراب کا بر ملا اظہار کرنے لگے۔ بے یقینی کی کیفیت کو اس سوال میں محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ’’کیا ہم یورپی یونین کا حصہ ہیں یا الگ ہو چکے ہیں‘‘۔ یہ سوال برطانوی عوام کے تذبذب کی دو ٹوک عکاسی کرتا ہے۔وہ جاننا چاہتے ہیں کہ تھا کیا! اور ہوا کیا !

ایک سرچ بہر حال برطانوی شہریوں کے آئرش پاسپورٹ کے حصول کے حوالے سے بھی تھی جو گوگل کے مطابق معاملے کی سنجیدگی کی جانب اشارہ کرتی ہے یعنی کچھ برطانوی شہریوں نے واقعی اپنی شہریت تبدیل کرنے کے بارے میں بھی سوچنا شروع کردیا ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے تعلق سے پولنگ پرسوں 23 جون کو ہوئی جس میں کوئی چار کروڑ 64 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے حصہ لیا۔ نتائج کل سامنے آئے جو غیر متوقع نہیں پھر بھی حیران کن تھے۔

نتائج کے مطابق یورپی یونین سے علاحدگی کے حق میں 51.8 فیصد اور مخالفت میں 48.2 فیصد ووٹ پڑے۔یورپی یونین سے وابستگی اور علاحدگی میں پڑنے والے ووٹو ں کے فرق کا تناسب مظہر ہے کہ عام اندازہ یکسر غلط نہیں تھا کہ وابستگی کے موافقین اور مخالفین تقریباً نصف نصف بٹے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نتائج کو یورپی یونین سے علاحدگی کے حامی و مخالفین دونوں نے تاریخی قرار دیا ہے۔

عالمی ردعمل کا جائزہ لیا جائے تو برطانوی عوام کے فیصلے سے صرف یورپی یونین کے مخالفین کومہی خوشی نہیں ہوئی بہت سے روسیوں کو برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی پر سوویت یونین کا ٹوٹنا یاد آ رہا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ یورپ اور برطانیہ کی معیشت کے اس طرح متاثر ہونے کا خطرہ جس سے سویت یونین دوچار ہوا تھا ۔

البتہ ایک بات صاف نظر آرہی ہے کہ یورپی یونین آنے والے مہینوں اور برسوں میں اپنے داخلی معاملات میں اتنا مصروف رہے گا سنبھالنے ہی میں مصروف رہے گا کہ یوکرین، مولداویا یا جارجیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی بابت سرگرم طریقے سے نہیں سوچ پائے گا ۔ اس طرح یہ ممالک نہ چاہتے ہوئے بھی روس کے زیر اثر رہیں گے۔
اس سلسلے میں بحث کرنے کے لئے اور مستقبل میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر غور و خوض کے لئے یورپی یونین کے بانی ممالک جرمنی، فرانس، اٹلی، بیلجیم، ہالینڈ اور لکسمبرگ کے وزراء خارجہ کی آج برلن میں ہنگامی میٹنگ ہونے والی ہے۔ یورپ کے لئے بریگزٹ کے فیصلے کو ایک کرارہ جھٹکا کہنے والی جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل اور اسے ایک سخت امتحان کہنے والے فرانس کے صدر فرانسوا اولاندے اس مسئلے پر پیر کو اٹلی کے وزیر اعظم متيو رےجي سے برلن میں ملاقات کرنے والے ہیں۔
ہنگامی اجلاس سے پہلے جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹراسٹینمير نے کہاکہ ہمارے سامنے اب ایسی صورت حال ہے کہ ہم صدمے کی حالت میں ہی نہیں رہ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ دکھانے کے لئے کہ مسئلہ کا حل آسان ہے، جلدی میں کچھ نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں نہ تو ڈپریشن میں آنا چاہئے اور نہ ہی چپ بیٹھے رہنا چاہئے۔ ہمیں اسی وجہ سے اس میٹنگ کی ضرورت ہے اور مجھے تقریبا اس بات پر یقین ہے کہ تمام 27 ممالک جو یورپ کو بچانا چاہتے ہیں، ان کی قوت ارادی برطانیہ کے علاحدہ ہونے کے باوجود بدستور قائم رہے گی۔
First published: Jun 25, 2016 06:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading