உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بچ گئی برطانوی وزیر اعظم Boris Johnson کی کرسی، تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں بڑے فرق سے حاصل کی جیت

    برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن آج پہنچیں گے ہندوستان۔

    برطانوی وزیراعظم بوریس جانسن آج پہنچیں گے ہندوستان۔

    Partygate Scandal: کنزرویٹیو پارٹی کے 57 سالہ لیڈر بورس جانسن نے تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں جیت حاصل کرلی ہے۔ پارلیمنٹ میں ہوئی ووٹنگ میں بورس جانسن کی حمایت میں 211 ووٹ پڑے جبکہ ان کی مخالفت میں 148 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔

    • Share this:
      لندن: پارٹی گیٹ اسکینڈل کے سبب بحران کا شکار ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کی کرسی فی الحال بچ گئی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں ان کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ کنزرویٹیو پارٹی کے لیڈر اور وزیر اعظم بورس جانسن کی حمایت میں 211 ووٹ پڑے جبکہ ان کی مخالفت میں 148 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔



      پیرکے روز ہاوس آف کامنس میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں حصہ لینا پڑا۔ برسراقتدار کنزرویٹیو پارٹی خود ان کے خلاف یہ تجویز لے کر آئی تھی، جس پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوئی اور بورس جانسن کی قسمت کا فیصلہ ہوا۔ اگر وہ تحریک عدم اعتماد کی تجویز میں ہارگئے ہوتے تو وزیر اعظم کی کرسی ان سے چھن جاتی۔ حالانکہ اس کا امکان پہلے بھی کم ہی ظاہر کیا جا رہا تھا۔

      پارٹی گیٹ اسکینڈل سے متعلق کچھ مزید تفصیل سامنے آنے کے بعد بیک بینچ کمیٹی نے پیر کو تحریک عدم اعتماد کی تجویز لانے کا اعلان کیا۔ کمیٹی کے افسر گراہم بریڈی نے بتایا کہ انہیں اراکین پارلیمنٹ سے کئی خط ملے ہیں، جن میں بورس جانسن کی قیادت کے تئیں تحریک عدم اعتماد سے متعلق ووٹنگ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

      اس تحریک عدم اعتماد کی تجویز کے لئے 15 فیصد اراکین پارلیمنٹ کی رضا مندی ملی تھی۔ مقامی وقت کے مطابق، پیر کے روز شام 6 سے 8 بجے کے درمیان ووٹنگ کرائی گئی۔ اگر جانسن 359 کنزر ویٹیو اراکین پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہتے تو انہیں کنزر ویٹیو لیڈر اور وزیر اعظم عہدے سے ہٹا دیا جاتا۔ تاہم انہوں نے جیت حاصل کرلی ہے، اس لئے ایک سال تک مزید عہدے پر بنے رہیں گے۔

      ووٹنگ سے قبل برطانوی سیاست کے ماہرین نے کہا تھا کہ 57 سالہ بورس جانسن ممکنہ طور پر تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ میں جیت جائیں گے، لیکن اس سے ان کی قیادت کو جھٹکا لگ سکتا تھا۔ کووڈ ضوابط کو توڑنے سے متعلق پارٹی گیٹ اسکینڈل معاملے میں 40 سے زیادہ پارٹی اراکین پارلیمںٹ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: