உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برسلز میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ، مسلم خواتین کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکا گیا

    برسلز: بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس وقت جھڑپ دیکھنے کو ملی جب وہاں پر موجود مظاہرین مسلم خواتین کو برسلز حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی الجزیرہ کے مطابق پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے پانی کی تیزبوچھاریں کی۔

    برسلز: بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس وقت جھڑپ دیکھنے کو ملی جب وہاں پر موجود مظاہرین مسلم خواتین کو برسلز حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی الجزیرہ کے مطابق پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے پانی کی تیزبوچھاریں کی۔

    برسلز: بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس وقت جھڑپ دیکھنے کو ملی جب وہاں پر موجود مظاہرین مسلم خواتین کو برسلز حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی الجزیرہ کے مطابق پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے پانی کی تیزبوچھاریں کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      برسلز: بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اس وقت جھڑپ دیکھنے کو ملی جب وہاں پر موجود مظاہرین مسلم خواتین کو برسلز حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی الجزیرہ کے مطابق پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے پانی کی تیزبوچھاریں کی۔
      پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرہ کر رہے افرادخود کو فاشسٹ بتا رہے تھے اور نازیوں جیسا سلوک کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین وہاں پر موجود مسلم خواتین کو برسلز حملے میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے بعد پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ شروع ہو گئی اور مظاہرین کو بھگانے کے لیے پولیس کو پانی کی تیزبوچھارو ں کا استعمال کرنا پڑا۔
      برسلز حملے میں 30 سے ​​زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس ابھی بھی ملک بھر میں چھاپے مار کر مشتبہ افراد کی تلاش کر رہی ہے اور ان کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
      First published: