உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے پھر الاپا کشمیر راگ، کہا- پاکستان کے ساتھ آنے یا آزاد ملک رہنے کا فیصلہ خود کریں گے کشمیری

    عمران خان نے پھر الاپا کشمیر راگ، کہا- پاکستان کے ساتھ آنے یا آزاد ملک رہنے کا فیصلہ خود کریں گے کشمیری

    عمران خان نے پھر الاپا کشمیر راگ، کہا- پاکستان کے ساتھ آنے یا آزاد ملک رہنے کا فیصلہ خود کریں گے کشمیری

    Imran Khan on Kashmir: پاکستان (Pakistan) کے قبضے والے کشمیر میں انتخابی ریلی کرنے پہنچے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے نئے متبادل کی پیشکش کی ہے۔ جمعہ کو انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا ’آزاد ریاست‘ بننا چاہتے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) کے قبضے والے کشمیر میں انتخابی ریلی کرنے پہنچے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے نئے متبادل کی پیشکش کی ہے۔ جمعہ کو انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا ’آزاد ریاست‘ بننا چاہتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اپوزیشن کی طرف سے کئے جارہے کشمیر کو صوبہ بنانے کے منصوبوں کے دعوے کو بھی خارج کیا ہے۔ حالانکہ، ہندوستان (India) ہمیشہ سے اس بات پرزور دیتا رہا ہے کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا‘۔

      25 جولائی کو ہونے والے الیکشن کے پیش نظر ترار کھال پہنچے عمران خان نے کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنائے کی بات سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’مجھے نہیں معلوم کہ یہ باتیں کہاں سے اٹھ رہی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن آئے گا جب کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی تجاویز کی بنیاد پر اپنا مستقبل طے کرنے کی اجازت ملے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے بھروسہ جتایا کہ اس دن کشمیر کے لوگ پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ لیں گے۔

      پاکستان مسلم لیگ - نواز (PML-N) کی لیڈر مریم نواز نے پاک مقبوضہ کشمیر میں 18 جولائی کو منعقدہ ایک ریلی میں کہا تھا کہ کشمیر کا درجہ بدلنے اور اسے صوبہ بنانے کا فیصلہ لے لیا گیا ہے۔ وہیں عمران خان نے کہا کہ یو این - مینڈیٹیڈ ریفرنڈم یعنی ریفرنڈم کے بعد ان کی حکومت ایک اور ریفرنڈم کرائے گی۔ اس میں کشمیر کے لوگوں کو یہ متبادل چننے کا موقع دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد ملک رہنا چاہتے ہیں۔

      کشمیر کو لے کر پاکستان کی ڈکلیئر پالیسی کے مطابق، یہ موضوع اقوام متحدہ کی تجاویز کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے۔ اس میں کشمیریوں کو ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی اجازت ہوگی۔

      خاص بات یہ ہے کہ یو این کی تجاوزی میں تیسرا متبادل ہے ہی نہیں۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے ڈکلیئر پالیسی سے الگ ہٹ کر تیسرے متبادل کے بارے میں بات کی ہے۔ ہندوستان نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اس کے علاوہ نئی دہلی کی طرف سے بھی اسلام آباد کو یہ بتا دیا گیا ہے کہ جموں وکشمیر سے متعلق موضوعات داخلی معاملہ ہے اور ملک اپنی پریشانیوں کو حل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: