உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کینیڈا میں ختم ہوئی ’ایمرجنسی‘، ٹرک ڈرائیوروں کی مخالفت کو کچلنے کے لئے PM ٹروڈو نے کیا تھا لاگو

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ملک میں ایمرجنسی کو ختم کرنے کا کیا اعلان۔

    کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ملک میں ایمرجنسی کو ختم کرنے کا کیا اعلان۔

    کینیڈا میں ہزاروں مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے کئی ہفتوں تک یہ ملک بین الاقوامی سطح پر سرخیوں میں رہا۔ اس پر کینیڈا کی طرف سے ہنگامی اختیارات نافذ کرنے پر بھی تنقید کی گئی۔

    • Share this:
      اوٹاوا:کینیڈا(Canada)کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو(Justin Trudeau) نے بدھ کے روز اوٹاوا(Ottawa) میں ٹرک ڈرائیوروں کی قیادت میں مظاہروں کو ہٹانے اور امریکی سرحد عبور کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہنگامی اختیارات کو منسوخ کر دیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ اب بحران ختم ہو چکا ہے۔ کینیڈا میں، ٹرک ڈرائیوروں نے ویکسینیشن کے حوالے سے زبردست مظاہرے کیے تھے جس کی وجہ سے ٹروڈو اور ان کے اہل خانہ کو کسی خفیہ مقام پر لے جانے کی نوبت آگئی تھی۔ اسی طرح کے مظاہرے نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں بھی دیکھے گئے۔ ساتھ ہی فرانس میں بھی عوام کی جانب سے کینیڈا کی طرح مظاہرے کی تیاریاں کی گئیں تھیں۔

      وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے نیوز کانفرنس میں کہا، ’آج، ہم اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے تیار ہیں کہ اب کوئی ایمرجنسی نہیں ہے۔ لہذا، حکومت ہنگامی حالات کے قانون کے استعمال کو ختم کر دے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ موجودہ قوانین اور ضمنی قوانین لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔‘ یہ اختیارات نو دن پہلے استعمال کیے گئے تھے۔ ان اختیارات کی حتمی منظوری پر ابھی سینیٹ میں بحث جاری ہے تاہم ٹروڈو نے اس دوران انہیں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

      بارڈر کراسنگ کو کھول دیا گیا
      اتوار کو، پولیس،کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا سے آخری بڑی گاڑی کو ہٹا کر باہر لے گئی۔ اس سے پہلے دو دن تک پولیس نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی۔ 200 کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا اور درجنوں گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ وزیراعظم کے فیصلے کے بعد کئی بارڈر کراسنگ بھی کھول دی گئی ہیں۔ ان کی بندش کی وجہ سے مسلسل مالی نقصان ہورہا تھا۔ کینیڈا میں ہزاروں مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے کئی ہفتوں تک یہ ملک بین الاقوامی سطح پر سرخیوں میں رہا۔ اس پر کینیڈا کی طرف سے ہنگامی اختیارات نافذ کرنے پر بھی تنقید کی گئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: