ہوم » نیوز » عالمی منظر

پناہ گزینوں کے مسئلے پر کناڈیائی حکومت چوطرفہ تنقید کی زد میں

وینکوور : ترکی کے ساحل پر ایک شامی پناہ گزین بچے کی لاش پائے جانے پر کناڈیائی حکومت چوطرفہ تنقید کا نشانہ بن گئی ہےکیونکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا خاندان کافی عرصہ سے کناڈا میں پناہ کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 04, 2015 01:11 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پناہ گزینوں کے مسئلے پر کناڈیائی حکومت چوطرفہ تنقید کی زد میں
وینکوور : ترکی کے ساحل پر ایک شامی پناہ گزین بچے کی لاش پائے جانے پر کناڈیائی حکومت چوطرفہ تنقید کا نشانہ بن گئی ہےکیونکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا خاندان کافی عرصہ سے کناڈا میں پناہ کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔

وینکوور : ترکی کے ساحل پر ایک شامی پناہ گزین بچے کی لاش پائے جانے پر کناڈیائی حکومت چوطرفہ تنقید کا نشانہ بن گئی ہےکیونکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا خاندان کافی عرصہ سے کناڈا میں پناہ کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔


بوڈرم کے ایجین ریسورٹ کے قریب تین سال کے ایک کرد بچے آئیلان کردی کی لاش کی تصویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تھی۔ اس کے بعد تمام اہم اخبارات اور مقامی میڈیا میں اس تصویر کو پہلے صفحے پر جگہ دی گئی۔ اس تصویر کے میڈیا میں جاری ہونے کے بعد لوگوں میں پناہ گزینوں کے لئے نہ صرف ہمدردی کی لہر تیز ہو گئی ہے بلکہ پناہ گزینوں کے مسئلے پر خاموشی اختیارکرنے ولاے ترقی یافتہ ممالک پر بے پناہ نکتہ چینی کی جارہی ہے۔


آئیلان ، اس کے بڑے بھائی اور ماں کی ڈوبنےسے موت ہو گئی تاہم والد عبداللہ حیات ہیں۔ آئیلان کی وینکوور میں رہنے والی ایک رشتہ دار ٹيما کردی نے بتایا کہ اس بچے کے خاندان کے لوگ کئی دنوں سے کناڈا میں پناہ لینے کی کوشش کررہے تھے۔


ٹيما ایک پریس کانفرنس کے دوران رو پڑی۔ ٹيما نے کہا کہ ان کے بھائی نے انہیں بتایا کہ کس طرح ان کے بیٹے اور بیوی ڈوب گئے۔ ٹيما نے مزید بتایا کہ انہوں نے ترکی چھوڑنے کے لئے اس بچے کے خاندان کی مدد کے لئے بھیجے تھے۔ انہوں نے کہا ’’میں نے انہیں کہا مجھے معاف کر دو۔ مجھے تمہیں پیسے نہیں بھیجنے چاہئے تھے۔ اگر میں آپ کو پیسے نہیں بھیجتی تو آپ ترکی نہیں چھوڑتے۔


ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف کناڈیائی حکومت کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہئے بلکہ پوری دنیا اس کے لئے ذمہ دار ہے۔ کناڈا کی شہریت اور امیگریشن کے محکمہ نے کہا کہ مردہ بچے کے خاندان کی طرف سے پناہ کے لئے عرضی دائر کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔


اس واقعہ کے بعد سے کناڈا کی سیاست میں الزام اور جوابی الزام کا دور شروع ہو گیا ہے۔ نیو ڈیموکریٹک لیڈر تھكس ملكیر نے کہا کہ ان کے ایک رہنما نے اس بچے کے خاندان کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی۔ لبرل لیڈر جسٹن ٹروڈيو نے کہا کہ کناڈا کو فوری طور پر 25 ہزار شامی پناہ گزینوں کو پناہ دینی چاہئے۔ وہیں مہاجرین امور کے وزیر کرس ایلیكزنڈر انتخابی مہم منسوخ کر کے اوٹاوا واپس آئے ہیں۔


کناڈا نے کہا ہے کہ وہ عراق کے 23 ہزار شہریوں اور شام کے 11300 شہریوں کو پناہ دے گا لیکن ابھی تک وہ صرف 2300 شامی شہریوں کو ہی پناہ دے پایا ہے جس کی وجہ اس پرنکتہ چینی ہورہی ہے۔

First published: Sep 04, 2015 01:10 PM IST