உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں بچے کو صرف اس بات پر گرم کلہاڑی چاٹنے پر کیا گیا مجبور، معاملہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش

    پولیس نے اس معاملے میں سراج ، عبدالرحیم اور محمد خان کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے چوری کے سلسلے میں ایک بچے کو گرم کلہاڑی کا اگلا حصہ چاٹنے پر مجبور کیا۔

    پولیس نے اس معاملے میں سراج ، عبدالرحیم اور محمد خان کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے چوری کے سلسلے میں ایک بچے کو گرم کلہاڑی کا اگلا حصہ چاٹنے پر مجبور کیا۔

    پولیس نے اس معاملے میں سراج ، عبدالرحیم اور محمد خان کو گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے چوری کے سلسلے میں ایک بچے کو گرم کلہاڑی کا اگلا حصہ چاٹنے پر مجبور کیا۔

    • Share this:
      اسلام آباد۔ پاکستان میں چوری کے شبہ میں بچے کے ساتھ بربریت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں تین افراد نے چوری کے الزام کے معاملے میں ایک بچے کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے گرم کلہاڑی کا آگے کا حصہ چاٹنے پر مجبور کیا۔ یہ بات مقامی میڈیا رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق ، تمن بجدار فضالا کچھ کی بارڈر ملٹری فورس نے ایسے تین افراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے چوری کے سلسلے میں ایک بچے کو گرم کلہاڑی کا اگلا حصہ چاٹنے پر مجبور کیا۔

      اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس واقعے کا شکار تہذیب چرواہا شیفرڈ ہے جس پر چائے کی کیتلی چرانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملے میں متاثرہ بچے کے والد جان محمد نے مقدمہ درج کیا ہے۔ تہذیب کو اس کی زبان پر چوٹیں آئی ہیں اور اسے علاج کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل کرایا جائے گا۔

      پولیس نے اس معاملے میں سراج ، عبدالرحیم اور محمد خان کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں اخبار کے مطابق ، قبائلی بلوچ تخت سلیمان تحصیل میں کسی بھی جرم میں ملوث ہونے کے شبہ میں بے گناہ ثابت کرنے کے لیے اب بھی سخت پانی اور آگ کی روایت استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی مشتبہ شخص ایک خاص وقت تک پانی کے نیچے رہتا ہے اور زندہ باہر آتا ہے تو اسے بے قصور سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ قبل از وقت باہر آتا ہے تو اسے مجرم سمجھا جاتا ہے۔

      اسی طرح اگر کوئی شخص جلتے ہوئے کوئیلوں یعنی آگ سے گزرنے یا گرم لوہا چاٹنے کے بعد بھی بے گناہ رہتا ہے تو اسے بے گناہ سمجھا جاتا ہے ورنہ اسے مجرم ہونے کی سزا دی جاتی ہے۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: