ہوم » نیوز » عالمی منظر

India-China Tension: گلوان وادی سے پیچھے ہٹنے کو چین راضی، پینگونگ کو لے کر اب تک نہیں بنی بات

ہندوستان - چین کے درمیان کشیدگی صرف ایک یا دو پوائنٹ پر نہیں ہے۔ پورے مشرقی لداخ میں چین کی طرف سے پہلے کی صورتحال کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آغاز گلوان وادی اور پینگونگ سے ہوئی، لیکن اب چینی فوج کی طرف سے کئی سیکٹرمیں ایل اے سی کے پاس کیمپ بنانے کی جارہی ہے۔

  • Share this:
India-China Tension: گلوان وادی سے پیچھے ہٹنے کو چین راضی، پینگونگ کو لے کر اب تک نہیں بنی بات
گلوان وادی سے پیچھے ہٹنے کو چین راضی، پینگونگ کو لے کر اب تک نہیں بنی بات

نئی دہلی: ہندوستان - چین (India-China Border Tension) کے درمیان جاری تمام اختلافات کو حل کرنے کے لئے دونوں ممالک میں کور کمارنڈر (Corps Commander) سطح کی تیسرے مرحلے کی بات چیت کا بھی کوئی حل نہیں نکل پایا ہے۔ حکومت کے ذرائع کی مانیں تو دونوں ممالک کے درمیان اس سے پہلے ہی بات چیت کے بعد چین اپنے فوجیوں کو گلوان وادی کے ایل اے سی کے پاس سمیت کچھ دیگر علاقوں سے واپس پیچھے ہٹانے کو تیار ہوگیا ہے، لیکن پینگونگ جھیل کو لے کر ابھی تک بات نہیں بن پائی ہے۔


دراصل، دونوں ممالک کے درمیان کئی مسئلے پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے۔ چین گلوان وادی سے ہٹنے کو لے کر طے پیرامیٹرس پر تقریباً متفق ہے، مگر پنگونگ جھیل کے پاس سے دونوں افواج ابھی پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔ پینگونگ جھیل سے ہندوستانی فوج پیچھے نہیں ہٹنا چاہتی ہے۔ ہندوستانی فوج فنگر-4 میں ہے، یہ علاقہ ہمیشہ سے ہندوستان کے کنٹرول میں رہا ہے۔ ہندوستان نے فنگر-8 پر ایل اے سی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایسے میں منگل کو چشلو میں ہندوستان اور چین کی افواج کے درمیان کور کمانڈر سطح کی میٹںگ کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔


دونوں ممالک کے درمیان کئی مسئلے پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے۔ چین گلوان وادی سے ہٹنے کو لے کر طے پیرامیٹرس پر تقریباً متفق ہے، مگر پنگونگ جھیل کے پاس سے دونوں افواج ابھی پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی مسئلے پر اتفاق نہیں ہو پا رہا ہے۔ چین گلوان وادی سے ہٹنے کو لے کر طے پیرامیٹرس پر تقریباً متفق ہے، مگر پنگونگ جھیل کے پاس سے دونوں افواج ابھی پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں۔


پینگونگ اور گلوان کی طرح ڈیپسانگ اور ڈیم چوک پر بھی چینی فوج پیچھے نہیں ہٹ رہی ہے۔ فوجی کمانڈر کے درمیان ہوئی گزشتہ میٹنگ میں چین نے کہا تھا کہ وہ گلوان وادی میں کلیم لائن لائن سے 800 میٹر دور ہے۔ 22 جون کو ہوئی میٹنگ میں فوج نےکہا تھا کہ گلوان کے پی پی -14 سے بس 150-100 میٹر ہی اندر وہ آئے تھے۔ ہندوستان - چین کے درمیان کشیدگی صرف ایک یا دو پوائنٹ پر نہیں ہے۔ پورے مشرقی لداخ میں چین کی طرف سے پہلے کی صورتحال کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آغاز گلوان وادی اور پینگونگ سے ہوئی، لیکن اب چینی فوج کی طرف سے کئی سیکٹرمیں ایل اے سی کے پاس کیمپ بنانے کی جارہی ہے۔



لداخ میں اس بات چیت سے واقف سرکاری ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ لیہہ واقع XIV  کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب میجر جنرل لیو نے کافی دیر اس مسئلے پر بات کی۔ دونوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ کچھ علاقوں میں فوجیوں کو واپس بلانے کے لئے عالمی سطح پر اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، گلوان وادی سے ہاٹ اسپرنگس علاقے میں چل رہے پیٹرولنگ پوائنٹ 14،15 اور 17 پر فوجیوں کو ہٹانے کے لئے اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ اس میں ہندوستان کی جانب سے دعویٰ کئے گئے ریاستوں سے کچھ سینکڑوں میٹر کی دوری پر پی ایل اے بھی شامل ہے۔

پی پی-14 وہی جگہ ہے، جہاں 15 جون کی رات کو دونوں افواج کے درمیان پُرتشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ اس خونی جھڑپ میں ہندوستانی فوج کے 20 جوان شہید ہوگئے تھے، جس میں 16 بہار ریزمینٹ کے کمانڈنگ افسر کرنل بی سنتوش بابو بھی شامل تھے۔ حالانکہ چین کی طرف سے جوانوں کے ہلاک ہونے کا کوئی آفیشیل بیان نہیں جاری کیا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے یہ بھی کہا کہ حالانکہ ابھی پینگونگ جھیل کے معاملے میں بہت تھوڑی سی بات بنتی نظر آ رہی ہے۔ یہیں پر 15 جون کی شب جھڑپ ہوئی تھی، جس میں دونوں طرف کے فوجی شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے۔  ایک افسر نےکہا، ’پی ایل اے کمانڈروں نے اب تک پینگونگ پر کوئی لچیلا پن نہیں دکھایا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ حقیقت یہ ہےکہ ہم وقت وقت پر تھوڑا تھوڑا آگے بڑھ رہے ہیں...ایسے معاملوں میں ون شاٹ سیٹلمنٹ کی امید نہیں کی جاسکتی ہے’۔
First published: Jul 01, 2020 07:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading