உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    China-Pakistan Economic Corridor:سی پی ای سی کو افغانستان تک بڑھانے پر غور کررہے چین اور پاکستان

    CPEC کو بڑھانے پر چین اور پاکستان کا غور۔

    CPEC کو بڑھانے پر چین اور پاکستان کا غور۔

    China-Pakistan Economic Corridor: چین کی نظر افغانستان کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل پر ہے۔ یہی نہیں چین اب افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے دیگر ممالک تک پہنچنا چاہتا ہے۔

    • Share this:
      China-Pakistan Economic Corridor: پاکستان اور چین (چین پاکستان اکنامک کوریڈور) CPEC کو افغانستان تک توسیع دینے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستان اور چین نے اس حوالے سے حکمت عملی بنا لی ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستان اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر سکتا ہے۔ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے اس سلسلے میں چین کے خصوصی مندوب برائے افغانستان یو شیاؤنگ سے ملاقات کی تھی۔

      پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں فریقین نے افغانستان کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال، پاکستان اور چین کی جانب سے افغانستان کو انسانی امداد اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ علاقائی روابط کے تناظر میں، دونوں فریقوں نے اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے افغانستان میں CPEC کی توسیع پر تبادلہ خیال کیا۔

      ذبیح اللہ مجاہد نے ظاہر کی خواہش
      طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد اسلامی گروپ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ سی پیک میں شامل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ خواہش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان سے سرگرم درجنوں دہشت گرد گروپ عرب سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Solar Storm Alert!:زمین کی جانب تیزی سے بڑھ رہا بہت بڑا شمسی شعلہ،بلیک آؤٹ کا خطرہ

      یہ بھی پڑھیں:
      کیا اب ٹکنالوجی کمپناں بھی خبریں نشر کریں گی؟ معاوضہ سے متعلق نئے ضوابط کی ہوسکتی ہے پہل

      افغانستانی وسائل پر نظر
      چین کی نظر افغانستان کے اربوں ڈالر کے قدرتی وسائل پر ہے۔ یہی نہیں چین اب افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کے دیگر ممالک تک پہنچنا چاہتا ہے۔ پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق چین کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان یوئی ژیاؤونگ اور سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں ملاقات کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: