உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خودکش حملے کے مجرموں کے لئے چین نے کی سزا کی مانگ،Balochخاتون نے چار کو اتارا تھا موت کے گھاٹ

    چین کے صدر شی جن پنگ۔ (فائل فوٹو)

    چین کے صدر شی جن پنگ۔ (فائل فوٹو)

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ حملے میں ملوث افراد کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ منگل کو، ایک نقاب پوش خاتون خودکش بمبار نے ایک وین کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

    • Share this:
      بیجنگ/کراچی:چین نے بدھ کو پاکستان سے کہا کہ وہ کراچی یونیورسٹی کیمپس پر خودکش حملے کی تحقیقات کرائے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ حملے میں ملوث افراد کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ منگل کو، ایک نقاب پوش خاتون خودکش بمبار نے ایک وین کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کراچی یونیورسٹی میں دھماکہ، 3 چینی شہریوں سمیت 4 کی موت، BLA نے لی حملے کی ذمہ داری

      اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے بلوچ خودکش بمبار خاتون
      کراچی یونیورسٹی خودکش حملہ کرنے والے شیری بلوچ برمش ضلع کیچ میں سیکنڈری اسکول ٹیچر تھی۔ اس نے 2014 میں بیچلر آف ایجوکیشن (B.Ed) اور 2018 میں ماسٹرز آف ایجوکیشن (M.Ed) کیا۔ اس نے بلوچستان یونیورسٹی سے زولوجی میں ماسٹرز اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے فلسفہ (ایم فل) میں ماسٹرز بھی کیاہوا تھا۔ شیری کے دو چھوٹے بچے ہیں۔ اس کے شوہر ڈینٹسٹ ہیں، جب کہ اس کے والد ایک سرکاری ایجنسی میں بطور ڈائریکٹر کام کر رہے تھے۔ اس کے والد تین سال تک ضلع پریشد کے رکن بھی رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ایلن مسک یاپیراگ اگروال؟ اب کون چلائےگاٹویٹر؟ Elon Musk نے 44بلین ڈالرمیں خریدا ٹویٹر

      بلوچ طلبا تنظیم کی رکن رہی ہے شیری
      شیری بلوچ اسٹوڈنٹس یونین (BSO-آزاد) کی رکن تھی۔ وہ دو سال قبل بی ایل اے کی مجید بریگیڈ میں شامل ہوئی تھیں۔ ان دو سالوں کے دوران شیری نے مجید بریگیڈ کے مختلف یونٹوں میں خدمات انجام دیں۔ بی ایل اے نے کہا کہ اس نے شیری کو خودکش اسکواڈ میں شامل ہونے پر دوبارہ غور کرنے کو کہا، لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ وہ بلوچ قتل عام سے باخبر تھی۔ اسے تقریباً چھ ماہ قبل کراچی لایا گیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: