உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    VIVO کے دفتر میں ED کے چھاپے سے بھڑکا چین، کہا۔ کمپنیوں کا بھروسہ ٹوٹے گا

    چینی سفارت خانے کے ترجمان وانگ شاوجیان نے کہا کہ امید ہے کہ VIVO انڈیا کے خلاف تحقیقات قانونی دائرہ کار میں ہوں گی۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے کے ترجمان وانگ شاوجیان نے کہا کہ امید ہے کہ VIVO انڈیا کے خلاف تحقیقات قانونی دائرہ کار میں ہوں گی۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

    چینی سفارت خانے کے ترجمان وانگ شاوجیان نے کہا کہ امید ہے کہ VIVO انڈیا کے خلاف تحقیقات قانونی دائرہ کار میں ہوں گی۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

    • Share this:
      چینی موبائل بنانے والی کمپنی ویوو (VIVO) پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کے چھاپے کے بعد چین کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین نے کہا کہ وہ امید کرتا ہے کہ ہندوستان کی تحقیقاتی ایجنسی قانون پر عمل کرتے ہوئے پوری کارروائی کرے گی۔ دہلی میں واقع چینی سفارت خانے نے بدھ 6 جولائی کو ایک بیان جاری کیا۔ اس سے پہلے 5 جولائی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے VIVO اور اس کے ڈیلروں سے تعلق رکھنے والے 44 مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ یہ چھاپہ منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

      چینی سفارت خانے کے ترجمان وانگ شاوجیان نے کہا کہ امید ہے کہ VIVO انڈیا کے خلاف تحقیقات قانونی دائرہ کار میں ہوں گی۔ سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ بیان کے مطابق چینی حکومت نے ہمیشہ چینی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک قوانین اور ضوابط کی پابندی کریں۔ چینی حکومت کمپنیوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

      بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے چینی کمپنیوں پر مسلسل تحقیقات سے کمپنیوں کا کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ سفارت خانے نے کہا، ’’اس سے نہ صرف کمپنیوں کی ساکھ خراب ہوتی ہے بلکہ ہندوستان میں کاروباری ماحول بھی خراب ہوتا ہے۔ اس سے چین سمیت دیگر ممالک کی کمپنیوں کا ہندوستان میں سرمایہ کاری اور کام کرنے کا اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

      سفارت خانے نے اپنے بیان میں چین اور بھارت کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فوائد پر بات کی۔ چینی سفارت خانے نے کہا، "2021 میں، چین اور بھارت کے درمیان 100 بلین ڈالر کی تاریخی دو طرفہ تجارت ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ چین چاہتا ہے کہ تحقیقات قانون اور قواعد کے مطابق کی جائیں۔ اور ہندوستان کو چینی کمپنیوں کو غیر امتیازی کاروباری ماحول فراہم کرنا چاہیے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: