ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس کے پہلے مریض کا چلا پتہ ، ووہان کی اس مچھلی بیچنے والی سے پھیلنا شروع ہوا یہ مہلک وائرس !

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے ووہان شہر میں رہنے والی 57 سالہ ویئی گائکسین کو کورونا وائرس کے معاملہ میں پیشنٹ زیرو بنایا گیا ہے ۔

  • Share this:
کورونا وائرس کے پہلے مریض کا چلا پتہ ، ووہان کی اس مچھلی بیچنے والی سے پھیلنا شروع ہوا یہ مہلک وائرس !
جموں وکشمیرحکومت نےکہا کہ میڈیا کےکچھ حصوں میں ادویات کی کمی کے بارے میں آئی خبریں بے بنیاد ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہورہی اموات کا اعداد و شمار 30 ہزار کے پار جا چکا ہے ۔ چین کے ووہان شہر سے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلا اور اب یوروپ اور امریکہ اس کے سب سے بڑے شکار ہیں ۔ حالانکہ اب دعوی کیا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے دنیا کے پہلے شخص کا پتہ لگا لیا گیا ہے ۔ یہ ایک خاتون ہے ، جو جھینگا مچھلی بیچتی ہے اور اس کا وائرس پوری طرح سے ٹھیک ہوگیا تھا ۔


امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کے ووہان شہر میں رہنے والی 57 سالہ ویئی گائکسین کو کورونا وائرس کے معاملہ میں پیشنٹ زیرو بنایا گیا ہے ۔ اس خاتون کو اس وائرس کا پہلا شکار بتایا جارہا ہے ۔ یہ خاتون اس وائرس کا ہونے کے بعد تین مہینوں تک اسپتال میں رہی اور جنوری میں ہی پوری طرح ٹھیک ہوگئی تھی ۔ رپورٹ کے طابق ویئی ہننان خطہ کے مچھلی بازار میں جھینگا مچھلی بیچتی ہیں اور وہ گزشتہ 10 دسمبر کو کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھیں ۔


وہیں مرر میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ویئی نے اس کو عام فلو سمجھا تھا ، کیونکہ انہیں سردی زکام ہوا تھا ۔ وہ ایک مقامی کلینک گئیں ، جہاں انہیں فلو کی دوائیں دی گئی تھیں ۔ جب ان دواوں سے فائدہ نہیں ہوا تو ویئی اگلے دن ووہان کے الیونتھ اسپتال میں گئیں ۔ حالانکہ یہاں بھی ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی تو انہیں 16 دسمبر کو ووہان کے سب سے بڑے اسپتال ووہان یونین اسپتال لے جایا گیا ۔ بعد میں اسپتال میں سامنے آیا کہ صرف ویئی ہی نہیں ہننان کے بازار میں کام کرنے والے کئی لوگ گزشتہ دو دنوں میں اسی طرح کی شکایت کے ساتھ اسپتال آئے ہیں ۔ دسمبر کے آخر تک ڈاکٹرس کو اس وائرس کی جانکاری ملی اور پھر سبھی کو کورنٹائن کیا گیا ۔


حالانکہ کورونا کے پہلے مریض کو لے کر پہلے بھی الگ الگ دعوے کئے جاتے رہے ہیں ۔ لینسیٹ میڈیکل جنرل کے مطابق کووڈ 19 کا پہلا مریض یکم دسمبر کو چین کے ووہان میں سامنے آچکا تھا ۔ یونیورسٹی آف سڈنی کے پروفیسر ایڈورڈ ہومس کے مطابق بھی پیشینٹ زیرو کو لے کر دعوی کرنا کافی پیچیدہ کام ہے ۔ حالانکہ جب ویئی اسپتال پہنچی تھیں تو انہوں نے دعوی کیا تھا کہ انہیں یہ بیماری گوشت مارکیٹ میں مشترکہ بیت الخلا استعمال کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ اس مارکیٹ سے کورونا وائرس کے 24 معاملات سامنے آئے تھے جو کہ کافی ابتدائی دنوں کے تھے ۔ ویئی کا ماننا ہے کہ سرکار نے اگر اس بیماری کو لے کر جلد قدم اٹھایا ہوتا تو کم اموات ہوتیں ۔
First published: Mar 30, 2020 10:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading