உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Langya Virus: چین میں لانگیاوائرس کاقہر! 35 افراد متاثر، کیااب یہ وائرس بھی پوری دنیاکوکرےگامتاثر؟

    ڈاکٹروں نے اس نئے وائرس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    ڈاکٹروں نے اس نئے وائرس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    عالمی وبا کورونا وائرس (CoVID-19) کے دوران 2020 میں جنوری سے جولائی کے درمیان کوئی کیس نہیں پایا گیا۔ محققین نے لانگیا ہینیپا وائرس کی تحقیقات کو بھی روک دیا کیونکہ تمام وسائل کووڈ۔19 وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وقف تھے۔

    • Share this:
      چین نے اس ہفتے اطلاع دی ہے کہ ہینان (Henan) اور شیڈونگ (Shandong) صوبوں میں 35 افراد لانگیا ہینیپا وائرس (Langya henipavirus) سے متاثر ہوئے ہیں۔ لانگیا ہینیپا وائرس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جو مہلک ہیں اور سنگین صورتوں میں موت کا سبب بن سکتے ہیں۔ مغرب اور تائیوان کے کئی ممالک کے ڈاکٹروں نے اس نئے وائرس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

      چین میں لانگیاوائرس سے متاثرہ مریضوں کو فلو جیسی علامات لاحق ہیں اور کیسز کے نتیجے میں اموات نہیں ہوئیں۔ اس بیماری کا پہلی بار 2019 میں پتہ چلا تھا اور اس دوران جاری کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سال سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ چینی امراض کے ماہرین جو اس کیسز کا مطالعہ کر رہے ہیں انھوں نے کہا کہ یہ نئے کیسز بہت جلد سامنے آئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں کہ کیا یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے میں پھیل سکتی ہے۔

      اس بیماری کو LayV بھی کہا جاتا ہے۔ بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو بایولوجی اینڈ ایپیڈیمولوجی (Beijing Institute of Microbiology and Epidemiology) نے جنوری 2019 سے پہلے شیڈونگ میں پہلا کیس دیکھا تھا۔ 2020 میں ہینان اور شیڈونگ میں 14 کیسز پائے گئے۔

      عالمی وبا کورونا وائرس (CoVID-19) کے دوران 2020 میں جنوری سے جولائی کے درمیان کوئی کیس نہیں پایا گیا۔ محققین نے  لانگیا ہینیپا وائرس کی تحقیقات کو بھی روک دیا کیونکہ تمام وسائل کووڈ۔19 وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے وقف تھے۔ اسی دوران اگست 2020 میں گیارہ کیسز کا پتہ چلا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Google Search down: اچانک گوگل سرچ نے کام کرنا کیا بند! دنیا بھر کے صارفین نے یوں کیاردعمل

      علامات:

      یہ بھی پڑھیں:

      US Court:امریکی’نائنتھ سرکٹ‘کی عدالت میں جج بنی ہندوستانی نژاد روپالی دیسائی

      جب انفیکشن زور پکڑتا ہے تو لانگیا کے مریضوں کو زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ بخار آتی ہے۔ کم از کم 54 فیصد مریض تھکاوٹ، 50 فیصد کھانسی، 50 فیصد بھوک میں کمی، 46 فیصد جسم اور پٹھوں میں درد اور 38 فیصد مریضوں کو بے چینی ہوئی ہے۔ کم از کم 35 فیصد مریضوں نے جگر کے مسائل میں مبتلا ہونے کی اطلاع دی جبکہ 8 فیصد کو گردے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: