ہوم » نیوز » عالمی منظر

امریکہ نے ایغور مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں کوقتل عام قرار دیا، بائیڈن انتظامیہ نےکیا اعلان

امریکہ نے ایغور مسلمانوں کےخلاف کاروائیوں کونسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا ۔دوہزار بیس حقوق انسانی کی رپورٹ کی بنیاد پر بیان دیاگیا ۔

  • Share this:

امریکہ نے ایغور مسلمانوں کےخلاف کاروائیوں کونسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا ۔دوہزار بیس حقوق انسانی کی رپورٹ کی بنیاد پر بیان دیاگیا ۔ امریکہ نے ایغور مسلمانوں کےخلاف کاروائیوں کونسل کشی سے تعبیر کیا ۔  بیجنگ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان ، امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ نے سنکیانگ میں مسلم ایغوروں اور دیگر نسلی اور مذہبی اقلیت گروہوں کے خلاف چینی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی دوہزار بیس کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ سنکیانگ میں بنیادی طور پر مسلم ایغوروں ( Muslim Uighur minority) اور دیگر نسلی اور مذہبی اقلیتی گروہوں کے خلاف ایک سال کے دوران نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پیش آئے ہیں۔


ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ختم ہوتے دنوں کے دوران مائیکل پومپیو نے پہلے سنکیانگ میں باضابطہ طور پر نسل کشی کا اعلان کیا۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ اس جرم میں دس لاکھ سے زائد شہریوں کو پریشان کرنا جس میں زبردستی نس بندی ، زبردستی اسقاط حمل ، اور چین کی برتھ کنٹرول پالیسی کا سختی سے نفاذ ، عصمت دری ،من مانے طور پر حراست میں لیے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد پر اذیتی جبری مشقت اور مذہب یا اعتقاد ، اظہار رائے کی آزادی ، اور نقل و حرکت کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کرنا بھی شامل ہے۔


محکمہ خارجہ نے کہا کہ چینی سرکاری عہدیدار اور سکیورٹی خدمات دینے والی ایجنسیاں نے اکثر انسانی حقوق کی پامالی کرتی ہیں۔


انسانی حقوق کی صورتِ حال سے متعلق امریکی محکمۂ خارجہ کی دوہزار بیس کی سالانہ رپورٹ پیش ۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق رجحانات مسلسل غلط سمت کی طرف جا رہے ہیں
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 31, 2021 04:52 PM IST