உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Solomonجزائر پر چین بناسکتا ہے اپنا بحری اڈہ! امریکہ سمیت نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی اُڑی نیند!

    چین اور جزائر سولومن کے درمیان سیکورٹی معاہدے نے امریکہ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ڈریگن یہاں اپنا بحری اڈہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح کی تشویش نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ ہے۔

    چین اور جزائر سولومن کے درمیان سیکورٹی معاہدے نے امریکہ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ ڈریگن یہاں اپنا بحری اڈہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح کی تشویش نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ ہے۔

    امریکا کی جانب سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی چین اور جزائر سولومن کے درمیان سیکیورٹی معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ اس خطے میں چین کی PLA کی موجودگی کو یقینی بنائے گا۔

    • Share this:
      واشنگٹن: امریکا نے چین اور جزائر سولومن کے درمیان سیکیورٹی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے بحرالکاہل کے ممالک میں چینی فوجی دستوں کی تعیناتی کا دروازہ کھل جائے گا۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کا خیال ہے کہ اس طرح کے معاہدے پر دستخط کرنے سے جزائر سولومن کے اندر عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ کربی نے کہا کہ ظاہر ہے امریکہ کو اس پر تشویش ہے۔

      بتادیں کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکی وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے ہونیارا میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے منصوبے کے بارے میں سولومن آئی لینڈ کے وزیر خارجہ جیرمیا مینیل سے بات کی تھی۔ اس دوران دونوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ امریکا نے چین کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے بعد چین یہاں اپنا فوجی اڈہ بنا سکتا ہے۔ امریکہ نے 1993 میں جزائر سولومن میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔ سال 2019 میں، جزائر سولومن نے تائیوان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور چین کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      یوکرین جنگ کے درمیان روس نے ہندوستان کو شروع کی S-400 کی سپلائی، جانیے اس کی خصوصیت

      امریکا کی جانب سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی چین اور جزائر سولومن کے درمیان سیکیورٹی معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ اس خطے میں چین کی PLA کی موجودگی کو یقینی بنائے گا۔ ساتھ ہی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ انڈو پیسیفک کو غیر مستحکم کر سکتا ہے کیونکہ اس جزیرے کو چینی فوجیوں کے لیے تزویراتی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      غذائی اجناس کی برآمد پر پابندیوں سے ملے چھوٹ، UN کی رپورٹ میں کی گئی سفارش

      کچھ عرصہ قبل سولومن جزائر کے وزیر اعظم مناسے سوگاورے نے کہا تھا کہ ان کا ملک چین کو یہاں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ چین کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: