உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    China:چین کی نئی چال، سری لنکا میں بحری جہاز بھیجنے کے بعد اب پاکستان میں فوج بھیجنے کے لئے کررہا ہے تیاری

    چین کے صدر شی جن پنگ۔ (فائل فوٹو)

    چین کے صدر شی جن پنگ۔ (فائل فوٹو)

    اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سفارتی اور سیکیورٹی ذریعے کا خیال ہے کہ "چین کی پیپلز لبریشن آرمی افغانستان اور پاکستان میں جنگی بنیادوں پر پوسٹیں قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

    • Share this:
      China: چین ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ سری لنکا میں چین کے ڈاک جہاز کے ٹھہرنے کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ ڈریگن نے اب ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکستان میں اپنی فوجی طاقت بڑھانا شروع کر دی ہے۔ اعلیٰ سفارتی ذرائع کے مطابق چین اپنے انتہائی پرجوش منصوبوں کی تکمیل کے لیے پاکستان اور افغانستان میں خصوصی طور پر بنائی گئی پوسٹوں پر فوج کے جوانوں کو تعینات کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ چین ہندوستان کے پڑوسی ممالک میں اپنا خطرہ بڑھا رہا ہے۔

      وسطی ایشیا میں اپنا دبدبہ چاہتا ہے چین
      چین ہمیشہ پاکستان اور افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہشمند رہا ہے۔ اس کے پیش نظر اس نے ان دونوں ممالک میں اسٹریٹجک طور پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ایک چینی جہاز جو مصنوعی سیاروں اور بین البراعظمی میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے منگل کو سری لنکا کی ہمبنٹوٹا بندرگاہ پر رک گیا۔ ہندوستان نے بھی سری لنکا کے سامنے جاسوسی کے خدشات پر اس کی مخالفت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اندازے کے مطابق چین نے پاکستان میں 60 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ جبکہ پاکستان نہ صرف مالی بلکہ فوجی اور سفارتی مدد کے لیے بھی چین پر منحصر ہے۔

      چین کا پاکستان پر دباؤ
      یہی نہیں بلکہ چین نے پاکستان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ان پوسٹوں کی تعمیر کی اجازت دے جہاں اس کی فوج تعینات ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد چین اور پاکستان دونوں ہی نسبتاً توسیع نہیں کر سکے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Afghanistan: مسجد میں دھماکہ ، کم از کم 21 افراد کی موت، متعدد زخمی

      یہ بھی پڑھیں:
      INS Tarangini:آئی این ایس ترنگینی برٹین میں ’آزادی کا امرت مہوتسو‘کا بنا توجہ کا مرکز

      حکومت پاکستان کے ساتھ میٹنگ۔۔۔
      اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سفارتی اور سیکیورٹی ذریعے کا خیال ہے کہ "چین کی پیپلز لبریشن آرمی افغانستان اور پاکستان میں جنگی بنیادوں پر پوسٹیں قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ پوسٹیں چین کے 'بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو' کی حمایت کرتی ہیں۔" سفارتی ذرائع کے مطابق چینی سفیر نونگ رونگ نے اس سلسلے میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: