உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine-Russia Conflict:روس-یوکرین کی کشیدگی کے درمیان چین نے کھیلا اپناداؤ، جانیے کیا ہے اس کی چال

    چین اور روس دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں اور اسی وجہ سے وہ قریب ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدر شی جن پنگ اور پوتن کی پالیسی میں مماثلت واضح ہے۔ جہاں روس یوکرین پر نظر رکھے ہوئے ہے وہیں چین نے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین سمیت دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں۔

    چین اور روس دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں اور اسی وجہ سے وہ قریب ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدر شی جن پنگ اور پوتن کی پالیسی میں مماثلت واضح ہے۔ جہاں روس یوکرین پر نظر رکھے ہوئے ہے وہیں چین نے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین سمیت دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں۔

    چین اور روس دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں اور اسی وجہ سے وہ قریب ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدر شی جن پنگ اور پوتن کی پالیسی میں مماثلت واضح ہے۔ جہاں روس یوکرین پر نظر رکھے ہوئے ہے وہیں چین نے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین سمیت دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں۔

    • Share this:
      بیجنگ:دنیا بھر کے ممالک کی نظریں روس یوکرین تنازع (Russia-Ukraine Conflict)پر لگی ہوئی ہیں۔ ایک طرف جہاں دنیا کی سوپر پاورز نے روس کو پیچھے ہٹنے کو کہا ہے وہیں چین روس کا ساتھ دیتا نظر آ رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے روس کو واضح طور پر کہا تھا کہ اگر اس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے۔ اس سب کے درمیان چین روس کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا یہ اقدام براعظم ایشیا میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسی کو آگے بڑھانا ہے۔ درحقیقت یہ دونوں ممالک بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شامل ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں مغربی ممالک کے رہنماؤں نے اس تقریب سے خود کو دور کیا تھا، خود روسی صدر ولادی میر پیوٹن وہاں پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کی اور پھر دونوں کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ اس میں انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ ان دونوں کے معاملات میں مداخلت کرے۔ دونوں ممالک نے ناٹو کو وسعت دینے کی کوششوں کی بھی مخالفت کی ہے۔

      روس یوکرین میں جارحانہ رویہ اختیار کر چکا ہے لیکن وہ دنیا کی سوپر پاور امریکہ، جرمنی اور یورپی ممالک کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں اگر اسے چین کا تعاون مل جاتا ہے تو اس سے روس کی طاقت میں اضافہ ہو گا۔ اگر مغربی ممالک روس پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہیں تو وہ چین سے مدد لے سکتا ہے۔ ایسے حالات میں چین اپنی کوششیں کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ ایشیا میں اپنی جارحانہ توسیعی پالیسی میں روس کی مدد چاہتا ہے۔ یہاں وہ تائیوان پر اپنا دعویٰ کرتا رہا ہے۔

      چین اور روس دونوں کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں اور اسی وجہ سے وہ قریب ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدر شی جن پنگ اور پوتن کی پالیسی میں مماثلت واضح ہے۔ جہاں روس یوکرین پر نظر رکھے ہوئے ہے وہیں چین نے تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین سمیت دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے کی تیاریاں کر رکھی ہیں۔ دنیا کے یہ دو ہی ملک ہیں جو غیر قانونی قبضے کے لیے اس حد تک پہنچ چکے ہیں۔

      آپسی تعاون کے لئے بھی منظوری
      روس اور چین بھی باہمی تعاون کی یکساں امیدیں رکھتے ہیں۔ جہاں روس کے پاس پیٹرولیم، گیس اور کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ چنانچہ چین ٹیکنالوجی اور پیداوار کے لحاظ سے سب سے آگے رہا ہے۔ ایسے میں روس چین کی مدد لے سکتا ہے۔ اس وقت چین روس سے بہت کم ایندھن خریدتا ہے۔ روس چاہتا ہے کہ چین ایندھن کی درآمدات میں اضافہ کرے۔ اب لگتا ہے کہ دونوں کی دوستی اس سمت میں بڑا قدم اٹھائے گی۔ چین کو توانائی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے، اس لیے اگر اسے روس سے ایندھن مل جائے تو اس کی کافی بچت ہو سکتی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: