اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مظاہرین کو روکنے کے لیے چین کی سیکورٹی فورس پوری طرح تیار، لی جارہی ہے موبائل فون کی تلاشی

    مظاہرین کو روکنے کے لیے چین کی سیکورٹی فورس پوری طرح تیار، لی جارہی ہے موبائل فون کی تلاشی (فائل فوٹو)

    مظاہرین کو روکنے کے لیے چین کی سیکورٹی فورس پوری طرح تیار، لی جارہی ہے موبائل فون کی تلاشی (فائل فوٹو)

    شہریوں کے شناختی کارڈس کی جانچ کے ساتھ مشتعل افراد کی پہچان کے لیے عہدیداروں نے فوٹو، میسیج یا ممنوعہ ایپس کے لیے لوگوں کے موبائل فون کی تلاشی لی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • China
    • Share this:
      چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ملک بھر میں کوویڈ-19 کے خلاف ہورہے مظاہروں کے دباو میں بھلے ہی کچھ رولس میں نرمی برتی ہو لیکن وہ اقتدار کی سلامتی یقینی بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتنا چاہتی ہے۔ وہ بڑے پیمانے پر اُتھل پتھل کو دور کرنے کے لیے ضروری مشنری قائم کرتے ہوئے حکومت دہائیوں سے ایسے چیلنجوں کے لیے تیار کررہی ہے۔

      شروعات میں کالی مرچ کے اسپرے اور آنسو گیس کے استعمال کر کے ہلکا ردعمل دینے کے بعد پولیس اور نیم فوجی دستوں نے جمعہ کو شہر کی سڑکوں پر جیپوں، وینوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں طاقت کا مظاہرہ کیا۔ شہریوں کے شناختی کارڈس کی جانچ کے ساتھ مشتعل افراد کی پہچان کے لیے عہدیداروں نے فوٹو، میسیج یا ممنوعہ ایپس کے لیے لوگوں کے موبائل فون کی تلاشی لی ہے۔ وہ احتجاجی مظاہروں میں ان کی شراکت اور مظاہرین سے صرف ہمدردی رکھنے والے لوگوں تک کی پہچان میں مصروف نظر آئی۔ لوگوں کی نامعلوم تعداد حراست میں لی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کسی پر الزام لگیں گے یا نہیں۔ زیادہ تر مظاہرین نے اپنا غصہ زیرو کوویڈ پالیسی پر مرکوز رکھا لیکن کچھ نے پارٹی اور صدر شی جن پنگ سے اقتدار چھوڑنے کی مانگ بھی کی جسے برسراقتدار جماعت سالوں تک جیل کی سزا کے لئے مناسب مانتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان نے اقوام متحدہ میں کہا-ہم نے یو این کے اندر مختلف آوازوں کو ظاہر کرنے کی کوشش کی

      یہ بھی پڑھیں:
      افغانستان میں رُکے ہوئے 20 پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرے گا ہندوستان! طالبان نے دیا اشارہ

      مظاہروں کو لے کر ہانگ کانگ کے رہائشیوں کی الگ رائے
      چین میں کوویڈ-19 کو لے کر لاگو پابندیوں کے خلاف ہو رہے مظاہروں سے ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامی آندولن کے معاونین کی امید جاگی ہے، جسے عہدیداروں نے سال 2020 میں سخت قومی سلامتی قوانین کو لاگو کر کے ایک طرح سے کچل دیا تھا۔ چین میں مظاہروں کو امید کی نظر سے دیکھنے والوں میں تھامس سو بھی ہیں جو چین کی سرزمین کے ان قریب ایک درجن طالبعلوموں کے ساتھ ہیں۔ وہیں، چین کے جنوبی ساحل پر واقع ہانگ کانگ میں کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جن کی ہمدردی چین میں ہورہے مظاہروں کے تئیں نہیں ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ چین شہریوں نے ہانگ کانگ میں ہوئے جمہوریت حامی مظاہروں کی مذمت کی تھی، جس کی انہیں کڑوی دوا مل رہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: