உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تائیوان کی حمایت کرنے کے لئے Chinaنے دی امریکہ کو دھمکی، کہا- ادا کرنی ہوگی’بھاری قیمت‘

    چین نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران تائیوان کے فضائی دفاع کے شعبے میں فضائیہ کے سینکڑوں جیٹ طیارے بھیجے ہیں اور فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ بحری افواج کو بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

    چین نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران تائیوان کے فضائی دفاع کے شعبے میں فضائیہ کے سینکڑوں جیٹ طیارے بھیجے ہیں اور فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ بحری افواج کو بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

    چین نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران تائیوان کے فضائی دفاع کے شعبے میں فضائیہ کے سینکڑوں جیٹ طیارے بھیجے ہیں اور فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ بحری افواج کو بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

    • Share this:
      بیجنگ:چین(China) کا کہنا ہے کہ تائیوان کی آزادی کے لیے حمایت ظاہر کرنے کی کوشش امریکہ کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ منگل کو چین نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے اس کی ’بھاری قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔

      بتادیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے سابق امریکی دفاعی عہدیداروں کا ایک وفد تائپے بھیجا تھا۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ہی تائیوان نے کہا تھا کہ ایسے وقت میں چین بھی اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اسے اپنے کنٹرول میں لانے کا فیصلہ کرچکا ہے۔

      امریکہ کا پانچ رکنی وفد پہنچا تائیوان
      تائیوان کی میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان کے وزیر خارجہ جوزف وو نے پانچ رکنی وفد کا خیرمقدم کیا جس کی سربراہی امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائیک ایڈمرل (ریٹائرڈ) مولن کر رہے تھے۔ چین تائیوان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی امریکی کوششوں پر برہم ہے۔

      چین نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران تائیوان کے فضائی دفاع کے شعبے میں فضائیہ کے سینکڑوں جیٹ طیارے بھیجے ہیں اور فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ بحری افواج کو بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

      تائیوان اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے نے چین کی جانب سے تائیوان پر زبردستی قبضہ کرنے کی دھمکی کی طرف نئی توجہ مبذول کرائی ہے۔

      سابق امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو بھی تائیوان پہنچیں گے
      ایجنسی کے مطابق مولن کے علاوہ سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی بدھ کو تائیوان پہنچے۔ مولن اور پومپیو دونوں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں چین مخالف بیان بازی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ دونوں تائیوان کی صدر سائی انگ وین سے ملاقات کریں گے۔ سائی انگ وین(Tsai Ing-wen)کو چین سے تائیوان کی آزادی کی وکالت کرنے والا ایک رِنگ لیڈر قرار دیا۔

      چین نے اس دورے پر کی تنقید
      چینی وزارت خارجہ نے امریکی حکام کے دورے پر تنقید کی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا، ’چینی عوام قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔‘ امریکہ کے لیے تائیوان کی حمایت ظاہر کرنا بے معنی ہے، چاہے اس نے جس کو بھی بھیجا ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: