ہوم » نیوز » عالمی منظر

چین میں یونیورسٹی کی 'ذلیل حرکت' ، داخلہ کے نام پر لڑکیوں کے ساتھ رہنے کا دیا آفر!

تنقید کے بعد یونیورسٹی نے اس کیلئے معافی مانگی ہے اور اس اشتہار کو بھی ہٹا دیا ہے ۔ حالانکہ اس پر کوئی وضاحت یونیورسٹی کی جانب سے نہیں دی گئی ، لیکن چین میں جنسی مساوات کیلئے کام کرنے والے این جی اوز اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔

  • Share this:
چین میں یونیورسٹی کی 'ذلیل حرکت' ، داخلہ کے نام پر لڑکیوں کے ساتھ رہنے کا دیا آفر!
چین میں یونیورسٹی کی 'ذلیل حرکت' ، داخلہ کے نام پر لڑکیوں کے ساتھ رہنے کا دیا آفر! (Photo Credit- Weibo)

چین میں ایک یونیورسٹی نے مارکیٹنگ کیلئے کچھ ایسا طریقہ نکالا ہے ، جو تنقیدوں کی زد پر ہے ۔ عام طور پر یونیورسٹیوں میں داخلہ کے اشتہارات میں کیمپس لائف اور ایجوکیشن کوالیٹی کے بارے میں بتایا جاتا ہے ، لیکن اس اشتہار میں لڑکیوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ طلبہ کو لبھانے کیلئے ان کے ساتھ وقت گزارنے کا آفر دیا جارہا ہے ۔ ایسے میں ان اشتہارات پر ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔


ساوتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق نانجنگ یونیورسٹی نے چین کے نیشنل کالج انٹرنس ٹیسٹ کے پہلے دن اس اشتہار کو ویبو پر پوسٹ کیا ۔ اشتہار میں یونیورسٹی کیمپس کے ہی چھ طلبہ کو الگ الگ پلے کارڈس کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ یہ بینر طلبہ کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے پکڑائے گئے تھے ۔ حالانکہ پوسٹرس پر جو کچھ لکھا تھا ، اس کو لے کر یونیورسٹی کی جم کر تنقید کی جارہی ہے ۔


یوں تو چھ طلبہ کو یہ بینر پکڑائے گئے تھے ، لیکن ان میں سے دو لڑکیوں کے ہاتھ میں جو بینر تھے ، ان کی سب سے زیادہ تنقید کی جارہی ہے ۔ پوسٹر میں لکھا ہے کہ کیا تم میرے ساتھ لائبری میں صبح سے رات تک رہنا چاہتے ہو؟ وہیں دوسری لڑکی کے ہاتھ میں جو بینر ہے ، اس پر لکھا ہے کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ میں تمہاری جوانی کا حصہ بنوں ؟ ایسے بینرس لڑکیوں کے ہاتھ میں پکڑانے کو لے کر یونیورسٹی کی تنقید کی جارہی ہے ۔


چین کے ان ہاوس سوشل میڈیا پر یہ بینر چھائے ہوئے ہیں ۔ لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ جان بوجھ کر یونیورسٹی نے لڑکیوں کو آبجیکٹیفائی کیا ہے ۔ جو بینرس لڑکوں کے ہاتھ میں پکڑائے گئے ہیں ، اس پر کوئی بھی ایسی فحش بات نہیں لکھی ہوئی ہے ۔ جبکہ لڑکیوں کو دئے گئے بینرس پر غلط باتیں لکھی ہوئی ہیں ۔

یونیورسٹی نے پیچھے ہٹائے قدم

تنقید کے بعد یونیورسٹی نے اس کیلئے معافی مانگی ہے اور اس اشتہار کو بھی ہٹا دیا ہے ۔ حالانکہ اس پر کوئی وضاحت یونیورسٹی کی جانب سے نہیں دی گئی ، لیکن چین میں جنسی مساوات کیلئے کام کرنے والے این جی اوز اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ کسی تعلیمی اداکارہ کیلئے اس طرح کے اشتہار کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی لوگ بھڑکے ہوئے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 26, 2021 07:35 PM IST