உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں طالبان کی حمایت کرکے پھنس گیا چین، اب گھر میں ہی ہو رہی ہے مخالفت

    افغانستان میں طالبان کی حمایت کرکے پھنس گیا چین، اب گھر میں ہی ہو رہی ہے مخالفت

    افغانستان میں طالبان کی حمایت کرکے پھنس گیا چین، اب گھر میں ہی ہو رہی ہے مخالفت

    افغانستان (Afghanistan) میں خواتین کی صورتحال کو لے کر سوشل میڈیا سائٹس پر چینی لوگوں کا سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ چین (China) بھلے ہی طالبان کی حمایت کر رہا ہو، لیکن اس کے ملک کے اندر ہی مخالفت کی آواز تیز ہوسکتی ہے۔

    • Share this:
      بیجنگ: طالبان (Taliban) سے متعلق چین (China) اپنے رویے پر اپنے ہی گھر میں گھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ چین کی میڈیا اور سفارت کاروں کے ذریعہ اس شدت پسند گروپ کی اچھی شبیہ پیش کرنے کی کوشش ناکام رہی کیونکہ خواتین کے استحصال اور تشدد کرنے کی طالبان کی تاریخ کو جاننے والوں کی کمی نہیں ہے۔ حالانکہ دوسری طرف یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ ماضی کے طالبان اور اب میں بہت فرق ہے۔ بیجنگ، لمبے وقت تک طالبان کو مشرقی ترکستان اسلامک آندولن سے جوڑ کر دیکھتا رہا ہے، جسے شنجیانگ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی وجہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم امریکہ کے افغانستان سے باہر نکلنے کے بعد چین نے جس طرح طالبان کو لے کر اپنا رخ بدلا ہے، اس سے سبھی فکر مند ہیں اور اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی نہیں، افغانستان کی اتھل پتھل سے پاکستان پر بھی اثر پڑے گا، جہاں چین نے پانچ ہزار کروڑ ڈالر کی بیلٹ اینڈ روڈ سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہی نہیں شدت پسندوں کو بڑھاوا مل سکتا ہے، جس کی پہنچ چین کی سرحد تک بھی ہوسکتی ہے۔

      سوشل میڈیا پر سخت ردعمل

      افغانستان میں خواتین کی صورتحال کو لے کر سوشل میڈیا سائٹس پر چینی لوگوں کا سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ دراصل، حال کے دنوں میں چین میں دو بڑے لوگوں پر آبروریزی کے الزام لگے ہیں۔ اسے لے کر اقتدار کے سرپرست کے خلاف بھی ماحول بنا ہے۔ جب افغانستان سے خاتون فلم میکر صحرا کریمی نے دنیا سے اپیل کی تو یہ ویڈیو چین کے سے سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا ہے۔ ایک خاتون نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’افغانی لوگوں کی آواز آپ کے ذریعہ دبائی جا رہی ہے۔ یہ اشارہ چینی حکومت کی طرف تھا۔

      چین کی وزارت خارجہ طالبان کی شبیہ سدھارنے کی کر رہی ہے کوشش

      اس درمیان چین کے وزارت خارجہ سے اس طرح کا بیان آرہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اس بار کا طالبان 20 سال پہلے والے سے کافی الگ اور سلجھا ہوا ہے۔ کہا گیا کہ کچھ لوگ افغان طالبان پر بھروسہ نہیں کر رہے ہیں، لیکن سب کچھ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ ہمیں ماضی اور حال کو دیکھنا چاہئے‘۔

      چین کے ذریعہ امریکہ کی افغانستان میں جمہوریت قائم کرنے کی ناکامی پر بھی بار بار بات کی جارہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ جمہوریت کا کوئی یقینی ڈھانچہ نہیں ہے، جس طرح چین کے لوگوں کو ٹھنڈا دودھ نہیں جمتا اور امریکہ کے لوگوں کو چاپسٹک نہیں جمتی۔ یہی نہیں، چین کے اہم اخبار ’دی پیپلز ڈیلی نے ایک 60 سیکنڈ کا ویڈیو پوسٹ کیا ہے، جس میں طالبان کی دہشت گردی سے متعلق بات نہیں کی گئی، بلکہ بتایا گیا کہ اس کا جنم افغانستان میں ہوئے خانہ جنگی کے بعد مہاجر کیمپ میں رہنے والے طلبا کے ذریعہ ہوا تھا، یہ غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور ستمبر 11 کے بعد 20 سال سے امریکہ سے جنگ پر ہے۔

      یہ ویڈیو چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر جب سرخیوں کا مرکز بن گیا اور اس کی تنقید کی جانے لگی، تو اس کے بعد اسے ڈیلیٹ کردیا گیا۔ اسی طرح سی سی ٹی وی 4 چینل نے کہا کہ افغانستان میں حالات اب بہتر ہو رہے ہیں اور طالبان نے کئی وعدے کئے ہیں، جس میں خواتین کے حقوق اور انہیں پڑھنے اور کام کرنے کی آزادی دینا شامل ہے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: