உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXCLUSIVE: افغانستان میں چینی ٹیم نے برگام ایئربیس کی ریکی کی، ہندوستان فکر مند

    افغانستان میں چینی ٹیم نے برگام ایئربیس کی ریکی کی، ہندوستان فکر مند

    افغانستان میں چینی ٹیم نے برگام ایئربیس کی ریکی کی، ہندوستان فکر مند

    سی این این - نیوز 18 کو ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق، اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ چین کے ٹاپ خفیہ اور ملٹری وفد نے بگرام ایئر بیس (Bagram Airbase) کا سفر کیوں کیا۔ حالانکہ جانکاری کے مطابق، وہ وہاں سے امریکیوں کے خلاف ثبوت اور ڈیٹا جمع کر رہے تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: امریکی افواج (US Forces) کے ذریعہ افغانستان چھوڑے جانے کے بعد چین (China) اور پاکستان (Pakistan) کی کابل میں دلچسپی تیزی کے ساتھ بڑھی ہے۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف نے عبوری طالبان حکومت کے اعلان سے قبل کابل کا سفر کیا تھا۔ اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی فوج کے بیس رہے بگرام ایئربیس پر چینی وفد گیا تھا۔ سی این این - نیوز 18 کو ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق، اب تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ چین کے ٹاپ خفیہ اور ملٹری وفد نے بگرام ایئر بیس کا سفر کیوں کیا۔ حالانکہ جانکاری کے مطابق، وہ وہاں سے امریکیوں کے خلاف ثبوت اور ڈیٹا جمع کر رہے تھے۔

      ذرائع کے مطابق، ایسا لگ رہا ہے کہ چینی حکومت طالبان اور پاکستان کے ساتھ مل کر خفیہ سیٹ اپ تیار کرنا چاہتی ہے۔ دراصل اس کے تحت وہ اپنے یہاں ایغور مسلمانوں کو ملنے والی کسی بھی طرح کی حمایت پر بھی نظر رکھنے کی تیاری میں ہے۔ دلچسپ طور پر چینی وفد کا جہاز بھی پاکستان ہوکر آیا کیونکہ اسے کابل ایئر پورٹ پر نہیں دیکھا گیا۔

      وفد کا پہنچنا ہندوستان کے لئے باعث تشویش

      بگرام ایئر بیس پر چینی وفد کا پہنچنا ہندوستان کے لئے باعث تشویش ہے۔ حکومت کے اعلیٰ ذرائع نے کہا ہے کہ ہم چینی گروپ کے موومنٹ کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ پاکستان کے ساتھ مل کر اپنا کوئی بیس شروع کرتے ہیں تو یہ سنگین مسئلہ ہے۔ اس سے علاقے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

      روس، چین، ایران اور تاجکستان کی خفیہ ایجنسوں کے سربراہان سے ملے تھے فیض حامد

      آئی ایس آئی سربراہ فیض حامد نے اس ماہ کی شروعات میں روسی، چینی، ایرانی اور تاجکستانی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان سے ملاقات کرکے انہیں طالبان حکومت کے بارے میں تمام تفصیلات مہیا کرائی تھی۔ واضح رہے کہ چین ان پہلے ممالک میں رہا ہے، جنہوں نے طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سفارتی معادہ قائم کیا تھا۔ دو دہائیوں تک افغانستان میں امریکی موجودگی کے وقت چین عام طور پر خاموش رخ اپناتا آیا ہے۔ افغانستان میں چینی سفیر وانگ یو نے حال ہی میں ایک طالبان لیڈر سے ملاقات کرکے کہا ہے کہ چین نے جنگ متاثرہ ملک میں اسپتال، اسکول اور سولر پاور اسٹیشن بنانے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: