ہوم » نیوز » عالمی منظر

مشرق وسطیٰ کیلئے ٹرمپ کاامن منصوبہ:فلسطینیوں کااحتجاج ومظاہرہ، اسرائیلی مفاد کو مد نظر رکھنے کالگایا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع امن منصوبہ کے خلاف فلسطینیوں نےسخت احتجاج کیا۔جس کے تحت اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے اہم علاقوں کو ضم کرنے کے لئے امریکی اجازت مل گئی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 30, 2020 01:53 PM IST
  • Share this:
مشرق وسطیٰ کیلئے ٹرمپ کاامن منصوبہ:فلسطینیوں کااحتجاج ومظاہرہ، اسرائیلی مفاد کو مد نظر رکھنے کالگایا الزام
مشرق وسطیٰ کیلئے ٹرمپ کا امن منصوبہ: فلسطینیوں کا احتجاج و مظاہرہ، اسرائیلی مفاد کو مد نظر رکھنے کا لگایا الزام۔(تصویر:رائٹرز)۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع امن منصوبہ کے خلاف فلسطینیوں نےسخت احتجاج کیا۔جس کے تحت اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے اہم علاقوں کو ضم کرنے کے لئے امریکی اجازت مل گئی۔خبررساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق مظاہروں اور کچھ اکا دکا جھڑپوں میں اس مجوزہ منصوبہ کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ جس میں فلسطینی خواہشات کو مدنظر رکھنے کے بجائے اسرائیلی مقاصد کی حمایت کی گئی ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہو کر اس منصوبہ کا اعلان کیا تھا جبکہ وہاں کوئی فلسطینی نمائندہ موجود نہیں تھا، امریکی صدر کے مطابق ان کا منصوبہ وہ کچھ حاصل کرسکتا ہے جو دوسرے پانے میں ناکام رہے۔تاہم یہ منصوبہ اسرائیل کو کافی کچھ دیتا ہے جو اس نے کئی دہائیوں سے کی جانے والی بین الاقوامی سفارتکاری میں طلب کیا، جس میں یروشلم کو فلسطینیوں کے ساتھ بانٹنے کے بجائے بحیثیت ’غیر منقسم‘ دارالحکومت کنٹرول حاصل کرنا۔


اس منصوبہ میں امریکا نے اسرائیل کو اسٹریٹجک اہمیت کی حامل وادیٔ اردن کو ضم کرنے کی بھی منظوری دے دی جو مغربی کنارے کا 30 فیصد علاقہ ہے، جبکہ دیگر یہودی بستیوں کے الحاق کی اجازت بھی شامل ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اس منصوبہ کو مسترد کرتے ہوئے اس معاہدے کو ’تاریخ کا کوڑادان‘ قرار دیا۔


غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے والی اسلامی تحریک حماس نے کہا کہ وہ یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کریں گے۔اس ضمن میں امریکی سکریٹری اسٹیٹ مائیک پومیو کا کہنا تھا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ جو نظریہ صدر نے پیش کیا اس کی بنیاد پر اسرائیلی بیٹھ کر مذاکرات کرنے پر راضی ہوں گے‘‘۔مغربی کنارے کے شہر بیت الحم میں مظاہرین نے اسرائیلی سرحد کے سیکورٹی فورسزپر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں انہوں آنسو گیس کے گولے داغے۔

فلسطینی وازرت صحت کے مطابق وسطی مغربی کنارے میں رملہ کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 3 مظاہرین کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔جنوبی غزہ کے علاقہ خان یونس میں مظاہرین نے ٹائر جلائے جبکہ دیگر افراد نے بینرز لہرا کر ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ’ڈیل آف دی سنچری کے خلاف متحد ہیں‘۔دوسری جانب اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں کچھ رہائشیوں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ ڈونلڈ ٹڑمپ نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی کہ اصل میں فلسطینی کیا چاہتے ہیں۔اس ضمن میں تل ابیب کی ایک رہائشی اوری کا کہنا تھا کہ ’’یہ اسرائیل کے عزائم پر ضرورت سے زائد عملدرآمد محسوس ہورہا ہے جبکہ فلسطینی مطالبات کو جارحانہ طریقے سے نظر انداز کردیا گیا‘‘۔
First published: Jan 30, 2020 01:44 PM IST