உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کی راجدھانی کابل پر قبضہ کرنے کے بعد کیا چاہتا ہے طالبان؟

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے قطر کے الجزیرہ کو بتایا کہ ’طالبان جنگجو کابل شہرکی پُرامن اقتدار کی منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں‘۔  انہوں نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی بھی ممکنہ بات چیت کی اطلاع دینے سے انکار کر دیا۔

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے قطر کے الجزیرہ کو بتایا کہ ’طالبان جنگجو کابل شہرکی پُرامن اقتدار کی منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی بھی ممکنہ بات چیت کی اطلاع دینے سے انکار کر دیا۔

    طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے قطر کے الجزیرہ کو بتایا کہ ’طالبان جنگجو کابل شہرکی پُرامن اقتدار کی منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی بھی ممکنہ بات چیت کی اطلاع دینے سے انکار کر دیا۔

    • Share this:
      کابل: طالبان نے افغانستان کی راجدھانی کابل پر قبضہ کرلیا ہے۔ طالبان کے کابل علاقے پر قبضہ کرتے ہی صدر اشرف غنی سمیت کئی لیڈروں نے ملک چھوڑ دیا ہے۔ افغانستان کے راشٹرپتی بھون پر قبضۃ کرتے ہی اشرف غنی نے ملک چھوڑ دیا۔ حالانکہ معمولی حادثات ہوئے ہیں۔ طالبان نے یہ بھی کہا کہ وہ طاقت کی بدولت کابل پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا ہے۔ طالبان جنگجو کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار کے ’پُرامن منتقلی‘ کا انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے طاقت کے دم پر اسے کنٹرول میں نہیں لینے کا وعدہ کیا۔ حالانکہ غیریقینی صورتحال سے گھبرائے باشندوں کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین دفاتر سے بھاگنے لگے اور امریکی سفارت خاہ پر ہیلی کاپٹر اترنے لگے۔

      افغانستان کے تین افسران نے ’دی ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ طالبان نے راجدھانی کلاکن، کارباغ اور پگھمان اضلاع میں ہیں۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے قطر کے الجزیرہ کو بتایا کہ ’جنگجو کابل شہر کی پُرامن اقتدار کی منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں‘۔  انہون نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان کسی بھی ممکنہ بات چیت کی اطلاع دینے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ یہ پوچھنے پر کہ طالبان کس طرح کا معاہدہ چاہتا ہے، اس پر سہیل شاہین نے مانا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت بغیر کسی شرط کے خود سپردگی کردے۔

      دوبارہ نافذ ہوگا شریعہ قانون؟

      طالبان کے ذریعہ قبضہ کئے جانے کے بعد افغانستان کے لوگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ وہ شریعہ یا اسلامی قانون کو نافذ کردے گا۔ 1996 سے 2001 کے دوران افغانستان میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی عائد تھی۔ اگر خاتون کام کرتی تھیں تو انہیں کوڑے مارنے یا پھر پھانسی کی سزا دی جاتی تھی۔

      امریکہ کی مداخلت بند

      امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان واقع اپنے سفارت خانہ کابل ایئر پورٹ پر شفٹ کر دیا ہے۔ انہوں نے افغانستان کے موجودہ حالات کی ویتنام جنگ سے موازنہ کئے جانے پر بھی اعتراض ظاہر کیا ہے۔ بلنکن نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کا افغان مشن ’کامیاب‘ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہ سائیگان نہیں ہے‘۔ آج سے تقریباً 46 سال قبل ویتنام جنگ کے دوران امریکہ کو سائیگان سے کچھ ایسے ہی نکلنا پڑا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مخالفین اور ریپبلکن رکن پارلیمنٹ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا موازنہ سائیگان سے کر رہے ہیں۔ اس درمیان تازہ اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں امریکہ کے سینئر ڈپلومیٹ راس ولسن نے سفارت خانہ چھوڑ دیا ہے۔ ایک امریکی افسر نے بتایا کہ ولسن کو کابل ایئر پورٹ پہنچایا گیا۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: