உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کی واپسی؟ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری میں اضافہ

    فوج کے جانے کے بعد مقامی پولیس کو حملے سے نمٹنا پڑے گا۔

    فوج کے جانے کے بعد مقامی پولیس کو حملے سے نمٹنا پڑے گا۔

    ذرائع نے بتایا کہ وادی سوات کو خوف نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، کیونکہ طالبان نے تحصیل مٹہ کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ شمالی وزیرستان سے موصول ہونے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد واپس پہنچ گئی ہے۔

    • Share this:
      باوثوق ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ حکومت اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے درمیان کابل میں جاری مذاکرات کے دوران مفاہمت ہوئی۔ اس کے باوجود بھی شورش زدہ شمال مغربی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ (Khyber Pakhtunkhwa) کے ضلع سوات میں کم از کم 400 تا 500 عسکریت پسند واپس آگئے ہیں۔

      ذرائع کے مطابق مسلح عسکریت پسندوں نے پہاڑوں پر قبضہ کرکے مقامی تاجروں سے بھتہ وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیسے سے انکار کرنے والوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا انھیں مارے جا رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنانے سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک طالبان عسکریت پسند اپنی پرانی روش پر واپس آ گئے ہیں۔

      یرغمالی ڈرامہ:

      چند روز قبل طالبان عسکریت پسندوں کو افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع دیر سے سوات میں داخل ہوتے ہوئے پولیس نے روک لیا تھا۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں ایک سینئر افسر سمیت چار پاکستانی پولیس اہلکار یرغمال بن گئے۔ طالبان نے مٹہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت یرغمالیوں کو ضلع سوات کی پہاڑی وادی پیوچار میں مذاکرات کے بعد مقامی جرگے کے ارکان کے حوالے کر دیا۔

      اس مفاہمت کو مقامی طور پر جرگہ (jirga) کہا جاتا ہے، یہ اجلاس بااثر لوگوں کا روایتی اجتماع ہے جس میں مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اور اتفاق رائے سے اختلافات کو طے کیا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی نے مقامی نمائندوں کو بتایا کہ طالبان کابل میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کر رہے ہیں لیکن پاکستانی سکیورٹی فورسز ان کے ارکان کو نشانہ بنا رہی ہیں۔


      سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان ان عسکریت پسندوں سے محبت کرتے تھے۔ ممکن ہے کہ انہیں خیبرپختونخوا کی حکومت اور عمران خان دوبارہ اپنی حکومت بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔

      یہ بھی پڑھئے:

      خاتون نے KFC سے کیا آرڈر، ڈیلیوری کیلئے پہنچی پاکستانی لڑکی، جانئے پھر کیا ہوا

      زمین پر خوف:

      ذرائع نے بتایا کہ وادی سوات کو خوف نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، کیونکہ طالبان نے تحصیل مٹہ کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ شمالی وزیرستان سے موصول ہونے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد واپس پہنچ گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      Pakistan: عمران خان کے قریبی کو بغیر نمبر کی گاڑی میں اٹھا کر لے گئی پولیس، بھڑکے سابق وزیر اعظم



      ملاکنڈ ڈویژن سمیت فورسز کا انخلاء ہو گیا ہے اور سوات میں صرف ایک یونٹ تعینات ہے۔ فوج کے جانے کے بعد مقامی پولیس کو حملے سے نمٹنا پڑے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: