ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا کا سائیڈ افیکٹ ، پارٹنر کے ساتھ اگر اس ملک میں جانا چاہتے ہیں تو دینا ہوگا اپنے پیار کا ثبوت

ڈپٹی پولیس چیف ایلن دلار کلاسن نے ڈینش براڈ کاسٹ سے کہا کہ اس کیلئے وہ ایک تصویر یا ایک محبت نامہ لا سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت عجیب و غریب بات ہے ، لیکن پارٹنر کے ساتھ جانے کا ذاتی فیصلہ آخرکار اسی پر ٹکا ہوا ہے ۔

  • Share this:
کورونا کا سائیڈ افیکٹ ، پارٹنر کے ساتھ اگر اس ملک میں جانا چاہتے ہیں تو دینا ہوگا اپنے پیار کا ثبوت
کورونا کا سائیڈ افیکٹ ، پارٹنر کے ساتھ اگر اس ملک میں جانا چاہتے ہیں تو دینا ہوگا اپنے پیار کا ثبوت

ڈنمارک کے افسران نے دیگر اسکینڈینیویائی ممالک اور جرمنی کے مسافروں کیلئے کورونا وائرس کے تحت لگائی گئی پابندیوں میں ڈھیل دی ہے ۔ بشرطیہ کے یہاں آنے والے لوگ کسی جائز مقاصد کیلئے ملک کا دورہ کررہے ہوں ۔ نئے ضوابط کے مطابق اب ملک میں اپنے ہم سفر یا منگیتر کے ساتھ بھی خواہشمند لوگوں کیلئے داخلہ کی اجازت ہوگی ۔ حالانکہ یہ ضابطے ان دوسرے جوڑوں پر بھی لاگو ہوں گے ، جو کم سے کم چھ مہینے سے رشتے میں تھے ۔ ایسے میں انہیں اپنے رشتے اور اس کی مدت کے ساتھ ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہوگی ۔


اس سلسلہ میں ڈپٹی پولیس چیف ایلن دلار کلاسن نے ڈینش براڈ کاسٹ سے کہا کہ اس کیلئے وہ ایک تصویر یا ایک محبت نامہ لا سکتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت عجیب و غریب بات ہے ، لیکن پارٹنر کے ساتھ جانے کا ذاتی فیصلہ آخرکار اسی پر ٹکا ہوا ہے ۔ بعد میں حکومت نے کہا کہ کچھ دنوں کے اندر ڈنمارک کے لوگوں کو اپنی سرحدوں میں رہتے ہوئے داخلوں کیلئے تحریری اعلان پیش کرنے کیلئے کہا جائے گا ۔ وہیں اس معاملہ میں وزیر انصاف نک ہیکرپ نے مقامی چینل ٹی وی 2 کو بتایا کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ ایک رشتے میں ہیں ، تو اس کو تحریری طور پر رکھیں تو بس اتنا کافی ہے ۔




پولیس ثبوت کے طور پر میسیج یا ذاتی جانکاری کو بھی قبول کرے گی ۔ خاص طور سے پارٹنروں کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہوگی کہ بحران سے پہلے وہ مستقل طور پر ملا کرتے تھے ۔ کیونکہ رشتوں میں صرف تحریر یا ٹیلی فون بات چیت شامل تھیں ، جس کو فی الحال لاگو داخلہ پابندیوں کے حوالہ سے منظوری دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ طے کرنا آنے والے کے اختیار میں ہوگا کہ وہ سرحدی افسران کو کون سی جانکاری دے گا ۔ حالانکہ کچھ اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے رازداری کو لے کر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کو رد کردیا ہے ۔

وہیں سوشل لبرل پارٹی کے کرسٹین ہوگارڈ نے کہا کہ میں نے کبھی ایسے ملک کے بارے میں نہیں سنا ، جہاں داخل ہونے کیلئے کسی ساتھی کو اس کے نجی میسیج یا فوٹو دکھانے کی ضرورت پڑی ہو ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ہم نے آخر جوڑوں کو ایک دوسرے کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت دی ، لیکن پرائیویسی کے حقوق کو ختم نہیں کیا ہے ۔ پیر سے لاگو ہونے والے ضابطے کے تحت اب داد دادی کو بھی اپنے پوتے پوتیوں سے ملنے کیلئے ڈنمارک میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی ۔
First published: May 26, 2020 11:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading