ہوم » نیوز » عالمی منظر

کورونا وائرس: پاکستان میں لاک ڈاون پر فوج - حکومت میں تکرار، عمران خان کی کرسی پر لٹکی تلوار

پاکستان بھی کورونا وائرس (Coronavirus) وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ حالانکہ اس وائرس سے لڑنے کے لئے فوج اور حکومت الگ الگ راستہ اختیار کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

  • Share this:
کورونا وائرس: پاکستان میں لاک ڈاون پر فوج - حکومت میں تکرار، عمران خان کی کرسی پر لٹکی تلوار
کورونا وائرس: پاکستان میں لاک ڈاون پر فوج - حکومت میں تکرار

اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) میں حکومت اور فوج (Pakistani Army) کے درمیان اکثر رسہ کشی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ پاکستان بھی عالمی وبا کا سامنا کر رہا ہے۔ حالانکہ اس وائرس سے لڑنے کےلئے فوج اور حکومت الگ الگ راستہ اختیار کرتی نظر آرہی ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان (Imran Khan) نےکہا تھا کہ وہ کووڈ-19 (Coronavirus) کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک میں لاک ڈاون نہیں لگائیں گے۔ 22 مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے قوم کو بتایا کہ ان کی حکومت لاک ڈاون نہیں کرے گی۔ ان کا موقف تھا کہ اس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے اور اہل خانہ کو کھانےکےلئے مناسب کھانا نہیں ملے گا۔ اس کے بعد کورونا وائرس بحران پر فیصلہ کن کارروائی کرنے یا معاملوں کے پھیلنے سے روکنے کی کوشش میں لاک ڈاون نا لگانے کے بعد عمران خان کو پاکستان کی طاقتور فوج نے انہیں درکنار کردیا۔


پاکستان میں وزیراعطم کا مطلب کچھ نہیں؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے بعد 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے اعلان کیا کہ فوج ملک میں انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کےلئےلاک ڈاون اپنے ہاتھ میں لےگی۔ اس کے بعد فوج نے پورے پاکستان میں فوجیوں کو تعینات کردیا ہے اور قومی کورکمیٹی کے ذریعہ کورونا وائرس کےلئےلاک ڈاون پر عمل کرارہی ہے۔ قومی کور کمیٹی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین رابطہ پالیسی قائم کرتی ہے۔ وہیں پاکستان فوج کے جنرلوں نے کووڈ-19 بحران کو عمران خان کے فیصلے سے الگ اپنی صلاحیت ثابت کرنےکے مواقع کے طور پر دیکھا۔

ایک ریٹائرڈ جنرل نےکہا ’حکومت نےکورونا وائرس کا مقابلہ کرنے میں جگہ خالی چھوڑدی۔ اب اس جگہ کو فوج نے بھرنےکی کوشش کی ہے، کوئی متبادل نہیں تھا‘۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنےکےلئے فوج کا آگے آنا، عمران خان کی ایک اور پالیسی میں ناکامی کی ایک مثال یہ ہے۔ انہوں نےکشمیر مسئلےکا حل تلاش کرنےکےلئے بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرانےکےلئےکوشش کی اور دہشت گردی کی پرورش کے موضوع پر ایف اے ٹی ایف کو منانے میں ناکام رہے، جس فوج نے سال 2018 میں اقتدار میں آنے کےلئے عمران خان کی مدد کی تھی، اب وہ تعلقات خراب ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔



پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 22 مارچ کو   قوم کو بتایا کہ ان کی حکومت لاک ڈاون نہیں کرے گی۔ تصویر: اے پی
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے 22 مارچ کو
قوم کو بتایا کہ ان کی حکومت لاک ڈاون نہیں کرے گی۔ تصویر: اے پی




پاکستان کی پارلیمنٹ نے کیا کہا؟



فرنٹ لائن کی ایک رپورٹ کے مطابق اپوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نفیسہ شاہ نےکہا کہ ’ایمرجنسی کے وقت میں کسی کو فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ پوری دنیا مضبوط لاک ڈاون کا مشورہ دے رہی ہے۔ اگر وزیراعظم یہ نہیں کرتے ہیں جبکہ وہی فیصلہ لینے والے ہیں، تو ایسے میں کوئی اور یہ کرےگا’۔ واضح رہےکہ جمعہ کو پاکستان میں نافذ جزوی لاک ڈاؤن کو دو ہفتے کےلئے مزید بڑھا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں خطرناک وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد بڑھ کر 12,000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ کورونا وائرس کے کل معاملوں میں تقریباً 79 فیصد معاملے مقامی متاثرین کے ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران نےجمعہ کو یہ اطلاع دی ہے۔


 عمران خان اب بھی مخالفت میں

پلاننگ وزیر اسد عمر نےکہا، ’یہ فیصلہ کیا گیا ہےکہ موجودہ وقت میں نافذ پابندی 9 مئی تک جاری رہیں گے’۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوئی قومی کورکمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ وہیں اس کے آئندہ روز ہفتہ کو عمران خان ایک بار پھر’مکمل لاک ڈاون’ کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ اس سے غریب لوگ بری طرح سے متاثر ہوں گے۔

واضح رہےکہ پاکستان میں گزشتہ ہفتہ علمائےکرام کے دباو کے بعد حکومت نے رمضان کے دوران مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ ملک میں کورونا وائرس سے اب تک تقریباً 12,000 لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔ ہفتہ کو 785 اور لوگوں میں انفیکشن کی تصدیق کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی کل تعداد بڑھ کر 11,940 ہوگئی۔ قومی صحت کی خدمات کی وزارت نے کہا ہےکہ اس دوران مزید 16 لوگوں کی موت کے ساتھ مہلوکین کی تعداد 253 ہوگئی، جبکہ 2,755 لوگ انفیکشن سے آزاد ہوچکے ہیں۔ احکامات پر عمل کرنےکی شرط پر لوگوں کو مسجدوں میں نماز ادا کرنےکی اجازت دی گئی تھی۔
First published: Apr 26, 2020 03:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading