உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کتاب میں دعویٰ- ’بدعنوان پولیس افسران‘ کی مدد سے ہوا تھا پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ

    کتاب میں دعویٰ- ’بدعنوان پولیس افسران‘ کی مدد سے ہوا تھا پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ

    کتاب میں دعویٰ- ’بدعنوان پولیس افسران‘ کی مدد سے ہوا تھا پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ

    دو جنوری 2016 کو ہندوستانی فضائیہ (Indian Army) کی وردی پہنے ہوئے بندوق برداروں کی ایک ٹیم ہندوستان - پاکستان سرحد (India-Pakistan Punjab Border) پر راوی ندی سے ہوتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہوا اور اس نے ہندوستانی فضائیہ کے پٹھان کوٹ ایئر بیس (Pathankot Airbase) پر حملہ کردیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی ایئر فورس (Indian Air Force) کے پٹھان کوٹ اڈے (Pathankot Airbase) پر سال 2016 میں دہشت گردانہ حملے (Terrorist Attacks) سے متعلق دعویٰ کرنے والی ایک نئی کتاب مین انکشاف ہوا ہے کہ مشکوک ’بدعنوان مقامی پولیس افسران‘ نے حملے سے پہلے بغیر نگرانی والی جگہ کی پہچان کی، جس کا استعمال دہشت گردوں نے بارود، دستی بم، مورٹار اور اے کے -47 چھپاکر رکھنے کے لئے کیا تھا۔ یہ دعویٰ دو بین الاقوامی صحافیوں ایڈرین لیوی اور کیتھی اسکاٹ - کلارک نے اپنی کتاب ’اسپائی اسٹوریز: ان سائڈ دی سکریٹ ورلڈ آف دی را اینڈ آئی ایس آئی‘ میں کیا ہے۔

      دو جنوری 2016 کو ہندوستانی فضائیہ (Indian Army) کی وردی پہنے ہوئے بندوق برداروں کی ایک ٹیم ہندوستان - پاکستان سرحد (India-Pakistan Punjab Border) پر راوی ندی سے ہوتے ہوئے ہندوستان کے حصے کی طرف آیا اور یہاں کچھ گاڑیوں پر قبضہ کرکے پٹھان کوٹ ایئر بیس (Pathankot Airbase) کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد ایک دیوار کو پار کرتے ہوئے یہ رہائشی کیمپ کی طرف بڑھے اور یہاں پہلی گولہ باری شروع ہوئی۔ چار حملہ آور مارے گئے اور ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں کے تین جوان شہید ہوگئے۔ اس کے ایک دن بعد آئی ای ڈی دھماکہ میں چار ہندوستانی شہید ہوگئے۔ سیکورٹی اہلکاروں کو یہ یقین کرنے میں تین دن کا وقت لگا کہ اب حالات ان کے کنٹرول میں ہے۔

       دو جنوری 2016 کو ہندوستانی فضائیہ (Indian Army) کی وردی پہنے ہوئے بندوق برداروں کی ایک ٹیم ہندوستان - پاکستان سرحد (India-Pakistan Punjab Border) پر راوی ندی سے ہوتے ہوئے ہندوستان کے حصے کی طرف آیا اور یہاں کچھ گاڑیوں پر قبضہ کرکے پٹھان کوٹ ایئر بیس (Pathankot Airbase) کی طرف بڑھ گیا۔فائل فوٹو

      دو جنوری 2016 کو ہندوستانی فضائیہ (Indian Army) کی وردی پہنے ہوئے بندوق برداروں کی ایک ٹیم ہندوستان - پاکستان سرحد (India-Pakistan Punjab Border) پر راوی ندی سے ہوتے ہوئے ہندوستان کے حصے کی طرف آیا اور یہاں کچھ گاڑیوں پر قبضہ کرکے پٹھان کوٹ ایئر بیس (Pathankot Airbase) کی طرف بڑھ گیا۔فائل فوٹو


      رائٹروں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی فریق نے پاکستان پر اس کو لے کر دباو بناکر جنگ کرنے کی دھمکی دی۔ انہوں نے لکھا، ’لیکن مشترکہ خفیہ داخلی جانچ دردناک طور پر حقیقت پر مبنی تھی۔ اس میں یہ اعتراف کیا گیا کہ مسلسل آگاہ کئے جانے کے بعد بھی سیکورٹی کے کئی اہم اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ پنجاب کی 91 کلو میٹر سے زیادہ کی سرحد پر باڑ نہیں لگائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، کم از کم چار رپورٹ میں یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ ندیاں (اور سوکھے نالے) حساس مقامات ہیں، لیکن وہاں کوئی جال نہیں لگایا گیا۔ 6 تحریری گزارش کے بعد بھی وہاں اضافی گشت نہیں رکھی گئی۔ نگرانی تکنیک اور سرگرمیوں پر دھیان رکھنے والے آلات نہیں لگائے گئے۔

      بدعنوان پولیس افسران نے ہی دہشت گردوں کو محفوظ جگہ بتائی

      پٹھان کوٹ حملے کے بارے میں صحافیوں نے لکھا کہ دہشت گرد گروپ جیش محمد نے 350 کلو گرام دھماکہ خیز اشیا کے لئے ادائیگی کی تھی، لیکن ان کی خرید ہندوستان میں ہوئی اور اسے مہیا کرانے والے ہندوستان میں دہشت گردوں کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کتاب کو ’جگرناٹ‘ نے شائع کیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ بدعنوان پولیس افسران سمیت دیگر ہندوستانی معاونین پر دہشت گردوں کے لئے اڈے کی چھان بین کرکے رکھنے کا خدشہ تھا۔ ان بدعنوان افسران میں سے ایک نے ایسے علاقے کا پتہ لگایا، جہاں کئی غیر محفوظ نکات تھے۔ فلڈ لائٹس یہاں نیچے تھیں اور سی سی سی ٹی وی کیمرے کی کوئی کوریج نہیں تھی۔ کسی بھی طرح کا کوئی نگرانی والے آلات نہیں لگے تھے اور کیمپ کی دیوار کے برابر میں ایک بڑا پیڑ تھا، جس کی تحریری رپورٹ میں سیکورٹی کے خطرے کے پیش نظر پہچان کی گئی۔

      اس دہشت گردانہ حملے میں 6 فوجیوں اور ایک افسر کی ہوئی تھی موت

      اس معاملے کی جانچ کرنے والے انٹلی جینس بیورو کے ایک افسر نے رائٹروں کو بتایا کہ بدعنوان پولیس افسر یا ان کے ایک معاون نے دیوار کود کر وہاں ایک رسی لگا دی۔ دہشت گردوں نے اس کا استعمال ’50 کلو گرام بارود، 30 کلو گرام گرینیڈ، مورٹار اور اے کے -47 کو پہنچانے میں کیا۔ بھاری مقدار میں اسلحہ - بارود سے لیس جیش محمد کے دہشت گرد اڈے میں گھس آئے اور 6 فوجیوں اور ایک افسر کا قتل کردیا۔ ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں نے چار دہشت گردوں کو مار گرایا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: