உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan Crisis:جوتے پہننے کا بھی وقت نہیں تھا ، پیسے کے لیے ملک نہیں چھوڑا ملک،اشرف غنی کادعویٰ

    افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی

    افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی

    اشرف غنی نے کہا کہ ان کا دبئی میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وطن واپسی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں وہاں رہتا تو افغانستان کے ایک منتخب صدر کو دوبارہ افغانوں کی آنکھوں کے سامنے پھانسی پر لٹکا یا جاسکتاہے۔

    • Share this:
      ملک سے فرار ہونے والے افغان صدر اشرف غنی کا بدھ کو متحدہ عرب امارات میں استقبال کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات سے ، انہوں نے اپنے ملک ، افغانستان کے شہریوں کو پہلا پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے پیسے کے ساتھ ملک چھوڑنے کے الزامات کی واضع طور پر تردید کی اور اسے افواہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چار کاروں اور پیسوں سے بھرے ہیلی کاپٹر کے ساتھ ملک چھوڑنے کی بات درست نہیں ، یہ سب بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف خونریزی سے بچنے کے لیے کابل سے نکلے ہیں۔ غنی نے کہا کہ ان کے پاس جوتے بدلنے کا وقت بھی نہیں ہے ، وہ اس روز کابل سے اسی سینڈل کے ساتھ راشٹرپتی بھون سے نکلے تھے جو انہوں اس وقت پہنے ہوئے تھے۔

      غنی نے کہا کہ ان چیزوں پر یقین نہ کریں جن میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ کے صدر نے آپ کو بیچا اور اپنے فائدے اور اپنی جان بچانے کے لیے یہاں سے بھاگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور میں انہیں سختی سے مسترد کرتا ہوں۔ جب میں افغانستان سے نکلا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اپنی چپل چھوڑ کر جوتے پہنوں۔


      متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ اور شعبہ بین الاقوامی تعاون نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے صدر اشرف غنی اور ان کے اہل خانہ کا انسانی بنیادوں پر ملک میں خیرمقدم کیا ہے۔ اس کے بارے میں کوئی صحیح معلومات نہیں تھی کہ وہ پہلے کہاں تھے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ عمان ، تاجکستان ، ازبکستان یا لبنان پناہ لیے ہوئےتھے۔

      ماضی میں ان افغانی صدور کو دی گئی تھی پھانسی

      اشرف غنی نے کہا کہ ان کا دبئی میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وطن واپسی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں وہاں رہتا تو افغانستان کے ایک منتخب صدر کو دوبارہ افغانوں کی آنکھوں کے سامنے پھانسی پر لٹکا یا جاسکتاہے۔ غنی نے یہ بھی کہا کہ کابل میں ایسا نہ کرنے کے معاہدے کے باوجود طالبان کابل میں داخل ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ اقتدار کی پرامن منتقلی کے حق میں تھے لیکن انہیں افغانستان سے نکال دیا گیا تھا۔انہوں نے طالبان اور سابق صدر حامد کرزئی اور سینئر عہدیدار عبداللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ عمل کامیاب ہو۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: