ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایران میں ووٹوں کی گنتی شروع، ووٹنگ میں ووٹروں نے بڑی تعداد میں لیا تھا حصہ

تہران۔ دنیا کی چھ سپر پاور کے ساتھ ایران کے تاریخی جوہری معاہدے کے بعد ملک میں پارلیمنٹ اور ماہرین کی اسمبلی کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے بعد آج ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی لیکن آخری نتیجہ آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 27, 2016 01:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ایران میں ووٹوں کی گنتی شروع، ووٹنگ میں ووٹروں نے بڑی تعداد میں لیا تھا حصہ
ایرانی صدر حسن روحانی: فائل فوٹو

تہران۔  دنیا کی چھ سپر پاور کے ساتھ ایران کے تاریخی جوہری معاہدے کے بعد ملک میں پارلیمنٹ اور ماہرین کی اسمبلی کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے بعد آج ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی لیکن آخری نتیجہ آنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ ایران میں 290 رکنی مجلس یا پارلیمنٹ اور 88 رکنی ماہرین کی اسمبلی کے انتخابات کے لئے ہونے والی ووٹنگ میں بھاری تعداد میں ووٹروں نے حصہ لیا۔ پولنگ کے وقت کو پانچ بار بڑھایا گیا اور پولنگ مقررہ وقت سے تقریبا چھ گھنٹے زائد چلی ۔ ماہر ان انتخابات کو ایران کی اگلی نسل کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن موڑ کی طرح دیکھ رہے ہیں کیونکہ آٹھ کروڑ کی آبادي والے اس ملک میں تقریبا 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کے لوگوں کی ہے۔


ایران میں 290 رکنی مجلس یا پارلیمنٹ اور 88 رکنی ماہرین کی اسمبلی کے انتخابات کے لئے پولنگ هوئی ہے۔ پارلیمنٹ کے رکن چار سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ اصلاح پسند پارلیمنٹ اور اسمبلی دونوں میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش میں ہیں۔ ان دونوں اداروں میں ابھی تک قدامت پسندوں کا غلبہ ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کا اثر 2017 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند صدر حسن روحاني کی سیاسی کیریئر پر پڑے گا۔ سپریم لیڈر آيت اللہ علی خامنہ ای نےزیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹروں سے انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اپیل کی تھی تاکہ ایران کے دشمنوں کو مایوسی ہاتھ لگے۔


مسٹر روحاني کے ساتھی اور سابق صدر اکبر ہاشمی رفسجاني آیت اللہ نے الیکشن حکام سے لوگوں کے ووٹوں کو محفوظ رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ’’آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے ووٹوں کو محفوظ رکھیں‘‘۔ ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر اصلاح پسند الیکشن نہیں جیتتے ہیں تو کیا ہوگا، تو انہوں نے کہا، ’’یہ ایران کے لئے ایک بڑا نقصان ہوگا‘‘۔ ایران میں ہونے والے یہ انتخابات اس لحاظ سے زیادہ اہم ہیں کہ اس کے ذریعے یا تواصلاح پسندوں کو اقتدار میں دخل دینے کا موقع ملے گا یا قدامت پسند اقتدار پر اپنی گرفت اور مضبوط بنائیں گے۔


اسمبلی کے انتخابات میں کل 161 امیدوار میدان میں ہیں لیکن ان میں ایک بھی خاتون امیدوار نہیں ہے۔ پارلیمنٹ انتخابات میں 6200 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 450 سے زائد خواتین امیدوار هیں ۔ ماہرین کی اسمبلی کے رکن ہی ملک کی اعلی ترین مذہبی رہنما یا سپریم لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ اسمبلی آٹھ سال کے لئے چنی جاتی ہے اس لئے ایران کی سیاست میں اس کا دخل پارلیمنٹ سے زیادہ ہوتا ہے۔”

First published: Feb 27, 2016 11:54 AM IST