اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عالمی ادارہ صحت کا سامنے آیا بڑا بیان، کہا کووڈ۔19 کا اس سال فلو جیسا بن سکتا ہے خطرہ

    گزشتہ چار ہفتوں کے دوران رپورٹ ہونے والی اموات کی ہفتہ وار تعداد اس سے کم ہے۔

    گزشتہ چار ہفتوں کے دوران رپورٹ ہونے والی اموات کی ہفتہ وار تعداد اس سے کم ہے۔

    اس سے پہلے بھی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 30 جنوری 2020 کو پی ایچ ای آئی سی یعنی خطرے کی بلند ترین سطح کا اعلان کیا تھا، جب کہ اس وقت تک چین سے باہر 100 سے کم کیسز اور کوئی موت کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

    • Share this:
      عالمی ادارہ صحت / ڈبلیو ایچ او (WHO) نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ 2023 میں کسی بھی وقت ہیلتھ ایمرجنسی کے خاتمے کا اعلان کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او کورونا وائرس کے وبائی مرحلے کے قریب آنے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہے۔ پچھلے ہفتے کے آخر میں تین سال ہو گئے جب سے اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے پہلی بار صورتحال کو وبائی بیماری کے طور پر بیان کیا ہے، حالانکہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا اصرار ہے کہ دنیا کے متاثرہ ممالک کو کئی ہفتے پہلے ہی کارروائی کرنا چاہیے تھا۔

      اس سے پہلے بھی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 30 جنوری 2020 کو پی ایچ ای آئی سی یعنی خطرے کی بلند ترین سطح کا اعلان کیا تھا، جب کہ اس وقت تک چین سے باہر 100 سے کم کیسز اور کوئی موت کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ یہ ایک ایسا وائرس جو ہمارے معاشرے میں خلل نہیں ڈال رہا ہے اور نہ ہی ہمارے ہسپتال کے نظام میں خلل ڈال رہا ہے، بلکہ مجھے یقین ہے کہ یہ فلو جیسا ہوگا۔

      انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ہم نے ممالک کو فیصلہ کن اقدام کرنے کی ترغیب دینے کے لئے عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا، لیکن تمام ممالک نے ایسا نہیں کیا۔ ین سال بعد کووڈ۔9 سے تقریباً 70 لاکھ اموات ہوئی ہیں، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اموات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      وہ اس بات پر خوش تھے کہ پہلی بار گزشتہ چار ہفتوں کے دوران رپورٹ ہونے والی اموات کی ہفتہ وار تعداد اس سے کم ہے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے 5,000 سے زیادہ اموات کی اطلاع دی گئی ہے 5,000 ایسی بیماری کے لئے بہت زیادہ ہے جس کو روکا اور علاج کیا جاسکتا ہے۔

      ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ اب دنیا اس وقت سے بہت بہتر حالت میں ہے، جب کورونا وبا کے دوران تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اس سال ہم یہ کہہ سکیں گے کہ کوورنا بین الاقوامی تشویش کی صحت عامہ کی ایمرجنسی (PHEIC) کے طور پر ختم ہو گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: