உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اومیکران کو لے کر WHO کی وارننگ ، بتایا دنیا کیلئے کتنا خطرناک ہے نیا کورونا ویریئنٹ

    اومیکران کو لے کر WHO کی وارننگ ، بتایا دنیا کیلئے کتنا خطرناک ہے نیا کورونا ویریئنٹ

    اومیکران کو لے کر WHO کی وارننگ ، بتایا دنیا کیلئے کتنا خطرناک ہے نیا کورونا ویریئنٹ

    Coronavirus New Variant Omicron : عالمی صحت تنظیم نے پیر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نیا کووڈ 19 ویریئنٹ اومیکران کا خطرہ عالمی سطح پر بہت زیادہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیا ویریئنٹ کتنا متعدی اور خطرناک ہے ، اس بارے میں غیریقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔

    • Share this:
      جنیوا : عالمی صحت تنظیم نے پیر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نیا کووڈ 19 ویریئنٹ اومیکران کا خطرہ عالمی سطح پر بہت زیادہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیا ویریئنٹ کتنا متعدی اور خطرناک ہے ، اس بارے میں غیریقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے ایک تکنیکی نوٹ میں کہا کہ اگر اومیکران کی وجہ سے کورونا کی ایک اور لہر سامنے آتی ہے تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالانکہ اب تک اومیکران ویریئنٹ سے وابستہ کوئی موت نہیں ہوئی ہے ۔

      ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا کورونا کا نیا ویریئنٹ اومیکران ، ڈیلٹا ویریئنٹ سمیت دیگر ویریئنٹس کے مقابلہ میں زیادہ متعدی ہے اور کیا یہ زیادہ سنگین بیماری کی وجہ ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس بارے میں کوئی جانکاری دستیاب نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ اومیکران سے وابستہ علامتیں دیگر ویریئنٹس کے مقابلہ میں الگ ہیں ۔ اس نے کہا کہ اومیکران ویریئنٹ کی سنگینی کی سطح سمجھنے میں کئی دنوں سے لے کر کئی ہفتوں تک کا وقت لگے گا ۔

      ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں اس ویریئنٹ سے متاثر پائے گئے لوگوں کی تعداد بڑھی ہے ، لیکن یہ سمجھنے کیلئے وبائی امراض کا مطالعہ جاری ہے کہ کیا یہ اومیکران کی وجہ سے ہے یا دیگر وجوہات اس کیلئے ذمہ دار ہیں ۔ تنظیموں نے کہا کہ ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں لوگوں کے اسپتال میں بھرتی ہونے کے معاملات بڑھ رہے ہیں ، لیکن اس کی وجہ اومیکران سے انفیکشن کی بجائے سبھی ویریئنٹس سے متاثر لوگوں کی کل تعداد میں اضافہ ہوسکتی ہے ۔

      سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اومیکران ویریئنٹ کئی مرتبہ میوٹیشن کا نتیجہ ہے ۔ کورونا سے زیادہ متعدی شکل B.1.1.1.529 کے بارے میں پہلی مرتبہ 24 نومبر کو جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈبلیو ایچ او کو مطلع کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد بوتسوانا ، بیلجیئم ، ہانگ کانگ، اسرائیل ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، ڈنمارک اور نیدرلینڈ میں بھی اس کی شناخت کی گئی ہے ۔

      ڈبلیو ایچ او نے 26 نومبر کو اس کو تشویشانک ویریئنٹ بتاتے ہوئے اومیکران نام دیا ۔ تشویشناک ویریئنٹ ڈبلیو ایچ او کی کورونا وائرس کے زیادہ خطرناک ویرئنٹس کی ٹاپ کٹیگری ہے ۔ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کو بھی اسی زمرہ میں رکھا گیا تھا ۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: