உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ادے پور قتل سانحہ کے بعد پاکستانی انتہا پسند گروپ دعوت اسلامی پر کارروائی جلد: خفیہ ذرائع

    Udaipur Murder Case: اودے پور میں ہوئے کنہیا لال کے بہیمانہ قتل (Udaipur Murder Case) کے معاملے میں پاکستانی انتہا پسند گروپ دعوت اسلامی کا اہم کردار بتایا جا رہا ہے اور اس کے خلاف بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    Udaipur Murder Case: اودے پور میں ہوئے کنہیا لال کے بہیمانہ قتل (Udaipur Murder Case) کے معاملے میں پاکستانی انتہا پسند گروپ دعوت اسلامی کا اہم کردار بتایا جا رہا ہے اور اس کے خلاف بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    Udaipur Murder Case: اودے پور میں ہوئے کنہیا لال کے بہیمانہ قتل (Udaipur Murder Case) کے معاملے میں پاکستانی انتہا پسند گروپ دعوت اسلامی کا اہم کردار بتایا جا رہا ہے اور اس کے خلاف بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ادے پور میں ہوئے کنہیا لال کے بہیمانہ قتل (Udaipur Murder Case) کے معاملے میں پاکستانی انتہا پسند گروپ دعوت اسلامی کا اہم کردار ہے اور اس کے خلاف بڑی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ CNN-News18 کو اعلیٰ ذرائع سے یہ جانکاری ملی ہے۔

      غوث محمد، جو ادے پور کنہیا لال کے قتل کے معاملے میں اہم مجرم ہے۔ کنہیا لال نے نوپور شرما کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کی سوشل میڈیا پر حمایت کی تھی، جس کے بعد غوث محمد نے دوکان میں  گھس کر کنہیا لال کا گلا ریت کر قتل کردیا تھا۔ اس قتل کا اہم ملزم غوث محمد، ادےپور کے ریاست حسین اور عبدالرزاق کے ذریعہ دعوت اسلامی میں شامل ہوا تھا اور ان کے ساتھ 2013 کے آخر میں پاکستان کے شہر کراچی گیا تھا۔ ان کے ساتھ ہندوستان سے جانے والے 30 لوگ اور بھی تھے۔

      پولیس چاہتی ہیں، مرکزی ایجنسی کرے جانچ

      خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ راجستھان پولیس چاہتی ہے کہ مرکزی ایجنسی دعوت اسلامی کے 300 سے زیادہ رابطوں کی جانچ کرے۔ مرکزی ایجنسی کو لکھے خط میں انہوں نے کہا کہ محمد ریاض اور غوث محمد کے سی ڈی آر تجزیہ کے بعد یہ پایا گیا کہ وہ لوگ پاکستان میں چلنے والی تنظیم کے 19-18 لوگوں کے رابطے میں تھے۔ آگے کی جانچ میں سامنے آیا کہ 18 پاکستانی شہری ہندوستان میں 300 سے زیادہ لوگوں کے رابطے میں تھے۔

      ملزمین کو اپنے کئے پر پچھتاوا نہیں

      یہ ایک سنگین وارننگ ہے اور ایجنسی کو آنے والے دنوں میں اس انتہا پسند گروپ کے حکم پر ایسے مزید حادثات پیش آنے کا خدشہ ہے۔ ایجنسی ان 300 لوگوں کا پتہ لگانے میں مصروف ہوئی ہے، اس کے لئے جلد ہی ایک اور جانچ شروع کی جائے گی۔ دوسری طرف ادے پور کے حادثہ کے ملزمین سے پوچھ گچھ کے دوران، انہوں نے کہا کہ اس حادثہ پر انہیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ ملزمین کے مطابق، انہوں نے یہ سب اللہ کی رضا کے لئے کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ جانچ کے دوران دونوں ملزمین نے انکشاف کیا کہ ان کے رڈار پر بی جے پی کے لیڈران بھی تھے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: