உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان میں بھیڑ نے چار خواتین کے اتروائے کپڑے، پھر پار کی بے حیائی کی حدیں اور۔۔۔

    Pakistan Women Stripped: اس واقعے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آئی ۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم نے اس افسوسناک واقعے کے سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    Pakistan Women Stripped: اس واقعے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آئی ۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم نے اس افسوسناک واقعے کے سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    Pakistan Women Stripped: اس واقعے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آئی ۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم نے اس افسوسناک واقعے کے سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد۔ پاکستان (Pakistan Crime) کے صوبہ پنجاب میں لوگوں کے ہجوم نے دکان سے چوری کا الزام لگاتے ہوئے ایک نوجوان لڑکی سمیت 4 خواتین کی عریاں پریڈ (Stripped) نکالی گئی۔ ہجوم نے پہلے چاروں کے کپڑے اتارے اور انہیں سڑک پر گھسیٹ کر مارا پیٹا۔ یہ واقعہ لاہور سے 180 کلومیٹر دور فیصل آباد میں پیش آیا جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں ایک لڑکی سمیت 4 خواتین کو اپنے اردگرد موجود لوگوں سے التجا کرتے ہوئے دیکھا گیا کہ انہیں جسم ڈھکنے دیں لیکن ہجوم نے ان کی بات نہیں مانی اور ان پر لاٹھیاں برسائیں۔ اس دوران خواتین اپنی عزت اور جان کی بھیک مانگتی رہیں لیکن لوگ تماشائی بنے رہے۔

      پاکستانی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق خواتین نے شکایت میں کہا ہے کہ 'ہم پیاسے تھے اور عثمان الیکٹرک اسٹور کے اندر گئے اور پانی کی بوتل مانگی، لیکن اس کے مالک صدام نے ہم پر الزام لگایا کہ ہم چوری کے ارادے سے دکان میں داخل ہوئے۔ صدام اور دیگر لوگوں نے ہمیں مارنا شروع کر دیا۔ پھر انہوں نے برہنہ کرکے خواتین کو گھسیٹا اور مارا پیٹا۔ ا انہوں نے برہنہ کرکے ہماری ویڈیوز بھی بنائیں۔ اس ظلم کو روکنے کے لیے بھیڑ میں سے کسی نے مجرموں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

      اس واقعے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس حرکت میں آئی ۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم نے اس افسوسناک واقعے کے سلسلے میں 5 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس میں ملوث تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت 5 مشتبہ افراد اور متعدد دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
      ویڈیو پر بہت سے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کے موب سسٹم کی مذمت کی بلکہ اس ویڈیو کو قابل اعتراض بھی قرار دیا۔ ایک یوزر نے پنجاب پولیس کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ براہ کرم اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیں۔


      ہجومی تشدد برداشت نہیں : عمران خان
      دریں اثنا، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا، ان کی حکومت مذہب کے نام پر ہجومی تشدد کو برداشت نہیں کرے گی۔ اس کے ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔

      (ایجنسی ان پٹ کے ساتھ)
      Published by:Sana Naeem
      First published: