உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     پاکستان میں رہتا ہے انڈر ورلڈ ڈان داود ابراہیم، بھانجے علی شاہ پارکر نے ED کو بتایا

     Dawood Ibrahim Live in Pakistan: سلیم قریشی نے ای ڈی کو بتایا کہ 2000 اور 2006 کے درمیان تین سے چار بار وہ پاکستان میں چھوٹا شکیل کے گھر بھی گیا تھا۔

     Dawood Ibrahim Live in Pakistan: سلیم قریشی نے ای ڈی کو بتایا کہ 2000 اور 2006 کے درمیان تین سے چار بار وہ پاکستان میں چھوٹا شکیل کے گھر بھی گیا تھا۔

     Dawood Ibrahim Live in Pakistan: سلیم قریشی نے ای ڈی کو بتایا کہ 2000 اور 2006 کے درمیان تین سے چار بار وہ پاکستان میں چھوٹا شکیل کے گھر بھی گیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: انڈر ورلڈ داود ابراہیم اور گینگسٹر چھوٹا شکیل پاکستان میں رہتا ہے، اس کے گروہ کے رکن اور شکیل کے بہنوئی سلیم قریشی عرف سلیم فروٹ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو یہ جانکاری دی۔ سلیم قریشی نے ای ڈی کو دیئے ایک بیان میں کہا، ’شکیل ایک جانا مانا گینسگٹر ہے اور اپنے شاگردوں کے ذریعہ جبراً وصولی کا ریکٹ چلاتا تا۔ ان میں سے کچھ کے نام فہیم مچمچ (مہلوک)، ناجد بھروچی اور ناصر کالیا (مہلوک) تھے۔ شکیل پاکستان سے کام کرتا تھا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے، اس نے 96-1995 میں ہندوستان چھوڑ دیا اور تب سے وہ پاکستان میں ہے۔

      انڈیا ٹوڈے ڈاٹ ان کی رپورٹ کے مطابق، سلیم قریشی نے ای ڈی کو بتایا، ’میں ابھی شکیل کے رابطے میں نہیں ہوں، لیکن 2006 تک اس کے رابطے میں تھا کیونکہ وہ میرا رشتہ دار ہے۔ اس کے بعد، میں نے اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کے سبب اس سے کبھی بات نہیں کی۔ میں 2000 اور 2006 کے درمیان تین سے چار بار پاکستان میں ان کے گھر بھی گیا۔ اس وقت، شکیل کراچی کے کلفٹن میں ڈیفنس علاقے کے فیز5 میں رہتا تھا‘۔

      ‘چھوٹا شکیل 2010 تک آرتھر روڈ جیل میں بند تھا‘

      سلیم قریشی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ شکیل ابراہیم کے لئے کام کرتا تھا اور وہ کراچی کے کلفٹن میں غازی شاہ پیر مزار کے پاس رہتے تھے۔ انہیں 2006 میں دبئی سے جلاوطن کیا گیا تھا اور 2001 میں شکیل اور دیگر کے خلاف درج ایک جبراً وصولی کے معاملے میں ممبئی پہنچنے پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر مہاراشٹرا منظم جرائم کنٹرول ایکٹ (مکوکا) بھی لگایا گیا تھا اور وہ 2010 تک آرتھر روڈ جیل میں بند تھا، لیکن ثبوتوں کی کمی میں بری کردیا گیا تھا۔

      ’کراچی میں رہ رہا تھا داود ابراہیم‘

      انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انڈر ورلڈ ڈان کے بھانجے علی شاہ پارکر نے کہا ہے کہ ڈان ’کراچی میں رہ رہا تھا‘۔ اس کے ساتھ ہی داود ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کے بیٹے علی شاہ نے بھی کہا ہے کہ وہ داود ابراہیم کے رابطے میں نہیں تھا۔ ای ڈی کی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ داود ابراہیم کی اہلیہ مہ جبیں عید جیسے تہواروں کے دوران پارکر فیملی سے رابطہ کرتی تھیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: