پاکستان کا جھوٹ ہوا بے نقاب، کراچی میں ہی رہتا ہے داؤد

نئی دہلی۔ 1993 میں ممبئی کے سیریل بم دھماکوں کے قصوروار انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم پر پاکستان کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔

Aug 22, 2015 08:22 AM IST | Updated on: Aug 22, 2015 08:24 AM IST
پاکستان کا جھوٹ ہوا بے نقاب، کراچی میں ہی رہتا ہے داؤد

نئی دہلی۔ 1993 میں ممبئی کے سیریل بم دھماکوں کے قصوروار انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم پر پاکستان کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس داؤد سے منسلک ایسے دستاویزات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہی رہتا ہے۔

یہی نہیں، ایجنسیوں کے پاس 59 سال کے داؤد کی نئی تصویر بھی ہے، جس میں وہ بغیر داڑھی مونچھ کے نظر آ رہا ہے۔ 2012 میں لی گئی اس تصویر کے مطابق داؤد نے اپنے چہرے پر کوئی کاسمیٹک سرجری نہیں کروائی ہے۔

Loading...

ان میں نہ صرف داؤد کے گھر کا پتہ درج ہے بلکہ اس کا موبائل نمبر بھی ہے۔ یہ ثبوت پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کے ان دعووں کی ہوا نکالنے کے لئے کافی ہے  جن میں انہوں نے کہا تھا کہ داؤد پاکستان میں نہیں ہے تو اسے ہندستان کے حوالے کرنے کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے؟ لیکن یہ دستاویزات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان داؤد کو لے کر مسلسل جھوٹ بولتا آیا ہے۔

انٹیلی جنس ایجنسیوں کو داؤد کی بیوی مہ جبیں شیخ کا اپریل 2015 کا ٹیلی فون بل ملا ہے۔ اس میں کراچی کے قریب واقع کلفٹن کالونی کا پتہ ہے۔ داؤد بیوی مہ جبیں شیخ، بیٹے معین نواز، بیٹیوں ماہ رخ، مہرين اور مازیا کے ساتھ رہتا ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال پاکستان کے این ایس اے سرتاج عزیز کے ساتھ بات چیت میں یہ ثبوت پیش کر داؤد کو سونپنے کا دباؤ بنانے کی تیاری میں ہیں۔ اگرچہ اس بات چیت کے منسوخ ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں، کیونکہ پاکستان دہشت گردی کے مسئلے پر بات چیت سے بچنے کے لئے ٹال مٹول کر رہا ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ داؤد کے پاس موجود تین پاکستانی پاسپورٹ کے مطابق اس کے کراچی میں ہی دو اور رہائشی ٹھکانے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک کا پتہ ہے، 6 اے، خايابن تنظیم فیز 5، ڈیفنس ہاؤسنگ ایریا، اور دوسرا پتہ ہے، معین پیلیس، سیکنڈ فلور، عبداللہ شاہ غازی درگاہ کے قریب، کلفٹن۔ داؤد کے ان پاسپورٹ کی کاپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس ہے۔

داؤد ابراہیم ممبئی میں 1993 میں ہوئے بم دھماکوں کا اہم ملزم ہے۔ ان سلسلہ وار دھماکوں میں 257 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ حال ہی میں اس معاملے میں یعقوب میمن کو پھانسی دی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

Loading...