سوڈان کی خانہ جنگی میں پھنسے کئی ہندوستانی ہوٹل میں قید، بنا بجلی، پانی کاٹ رہے دن

سوڈان میں خانہ جنگی

سوڈان میں خانہ جنگی

Indians in Sudan Conflict: کیرالہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص دونوں مسلح افواج کے درمیان کراس فائر کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کے بعد سے سوڈان میں پھنسے ہندوستانیوں کے رشتہ داروں کی جانب سے حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ انہیں وطن واپس لانے کے لیے انخلاء کا منصوبہ بنایا جائے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Khartoum, Sudan
  • Share this:
    خرطوم: پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) اور سوڈانی مسلح افواج (SAF) کے درمیان جاری تنازعہ (Sudan Conflict) ہندوستانیوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، کیرالہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص (Indian Died in Sudan) دونوں مسلح افواج کے درمیان کراس فائر کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کے بعد سے سوڈان میں پھنسے ہندوستانیوں کے رشتہ داروں کی جانب سے حکومت سے اپیل کی جا رہی ہے کہ انہیں وطن واپس لانے کے لیے انخلاء کا منصوبہ بنایا جائے۔ سوڈان میں ہندوستانی شہریوں کی صورتحال کے بارے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر (S Jaishankar) اور کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر سدارامیا کے درمیان سوشل میڈیا پر کئی طنز بھی شیئر کیے گئے۔

    دنیا کا سب سے بڑا راکٹ لانچ کے چند منٹ بعد ہی آسمان میں پھٹا، مشن ناکام، دیکھئے ویڈیو

    گیانواپی کے 100 میٹر کے دائرے میں نمازیوں کے لیے رکھوائے گئے موبائل ٹوائلٹس

    اس درمیان سوڈان میں پھنسے ایک ہندوستانی شہری نے بتایا کہ اس کے ہوٹل میں پانچ دن سے بجلی نہیں ہے۔ خوراک اور پانی کی فراہمی بھی کم ہے۔ اس سے قبل نیم فوجی دستوں نے ہوٹل کو لوٹ لیا تھا۔ خرطوم کے بیشتر علاقوں میں بجلی نہیں ہے اور نیم فوجی دستے مرمت کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیم فوجی دستوں کی طرف سے لوٹ مار ایک بڑا مسئلہ ہے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے ہندوستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے سوڈان کے ایک اور مسافر نے بتایا کہ اس نے ہوائی اڈے پر دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کئی کلومیٹر پیدل چل کر ایک ہوٹل میں پناہ لی جہاں اب بجلی نہیں ہے۔

    بتا دیں کہ وزارت نے اس سے قبل سوڈان میں مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے تقریباً 1500 ہندوستانی شہریوں کے لیے ایک وقف کنٹرول روم (ٹول فری نمبر 1800118797) قائم کیا تھا۔ دوسری جانب جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان تشدد سے متاثرہ ملک سے اپنے شہریوں کو نکالنا چاہتا ہے، وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ کچھ منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، لیکن اس کا انحصار زمینی صورتحال پر ہوگا۔ زمینی حالات کو 'انتہائی کشیدہ' قرار دیتے ہوئے، باغچی نے یقین دلایا کہ وزارت خارجہ ان ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے جس کی بنیادی توجہ ہندوستانیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
    Published by:sibghatullah
    First published: