ہوم » نیوز » عالمی منظر

چینی صدر کی کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی عیادت، ہلاک شدگان کی تعداد 1016 ہو گئی

چینی صدر وائرس کے ملک بھر میں پھیلنے کے بعد سے عوام کی آنکھوں سے اوجھل تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم لی کیکیانگ کو وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تعینات کیا تھا اور لی کیکیانگ ہی نے گزشتہ ماہ ووہان کا دورہ بھی کیا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 11, 2020 11:18 AM IST
  • Share this:
چینی صدر کی کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی عیادت، ہلاک شدگان کی تعداد 1016 ہو گئی
کوروناوائرس سے مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے

بیجنگ۔ چین کے صدر شی جن پنگ ایک ہزار سے زائد افراد کی جان لینے والے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور صحت حکام سے ملنے اسپتال پہنچے۔ چین سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق چینی صدر، جنہوں نے اس وائرس کو’شیطان‘ کا نام دیا ہے نے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے اسپتال کا دورہ کیا اور کہا کہ ’’صورتحال اب بھی تشویش ناک ہے‘‘۔چینی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ’’وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید موثر اقدامات کرنے ہوں گے‘‘۔


خیال رہے کہ چینی صدر وائرس کے ملک بھر میں پھیلنے کے بعد سے عوام کی آنکھوں سے اوجھل تھے۔ انہوں نے وزیر اعظم لی کیکیانگ کو وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تعینات کیا تھا اور لی کیکیانگ ہی نے گزشتہ ماہ ووہان کا دورہ بھی کیا تھا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کے روز شی جن پنگ نے نیلے رنگ کا ماسک اور سفید سرجیکل گاؤن پہنا تاکہ بیجنگ میں دیتان اسپتال میں ڈاکٹروں سے ملاقات کر سکیں، مریضوں کے علاج کو دیکھ سکیں اور ووہان میں ڈاکٹروں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرسکیں۔


شی جن پنگ: فوٹو یو این آئی۔
شی جن پنگ: فائل فوٹو، فوٹو یو این آئی۔


بعد ازاں انہوں نے بیجنگ کے وسط میں رہائش پذیر برادری سے ملاقات بھی کی تاکہ وبا کو روکنے کے لیے ’تحقیقات کرنے اور تجاویز‘ کے اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔ ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ چینی صدر کا انفرا ریڈ تھرما میٹر سے درجہ حرارت چیک کیا گیا، بعد ازاں انہوں نے کام کرنے والی برادری سے بات چیت کی اور اپارٹمنٹ کی کھڑکیوں سے دیکھنے والے افراد کے لئے مسکرا کر ہاتھ بھی ہلایا۔ اس وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے چینی حکام کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں جن میں چین کے صوبہ ہبوئی کے شہر کو مکمل بند کر دینا اور ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بند کر دینا، سیاحتی مقامات کو بند کرنا اور کروڑوں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تجویز دینا شامل ہے۔ ان اقدامات کے بعد شہر ویران ہو گئے تاہم گزشتہ روز معمولات زندگی بحال ہونے کے کچھ علامات سامنے آئے۔ بیجنگ اور شنگھائی میں سڑکوں پر اب پہلے سے زیادہ ٹریفک موجود ہے اور جنوبی صوبے گوانژو کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی پبلک ٹرانسپورٹ کو بحال کردیں گے۔

بیجنگ میں ایک سیلون میں کام کرنے والے لی نے کئی دنوں تک اپنا کاروبار بند رکھنے کے بعد گزشتہ روز اسے واپس کھولتے ہوئے کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پریشان ہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب گاہک آتے ہیں تو ہم پہلے ان کا درجہ حرارت دیکھتے ہیں، پھر ڈس انفیکٹنٹ استعمال کرتے ہیں اور ان سے ہاتھ دھونے کو کہتے ہیں‘‘۔ کئی افراد کو گھر سے کام کرنے کے لیے کہا جارہا ہے جبکہ چند کمپنیوں نے ایک اور ہفتے کے لیے کام کو روک دیا ہے۔
First published: Feb 11, 2020 11:18 AM IST