உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل خودکش حملہ: ہلاکتوں کی تعداد 57 ہو گئی، تقریباً 200 زخمی

    بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے عام شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے قومی شناختی کارڈ وصول کرنے کے لیے رجسٹریشن سینٹر کے باہر موجود تھے۔

    بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے عام شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے قومی شناختی کارڈ وصول کرنے کے لیے رجسٹریشن سینٹر کے باہر موجود تھے۔

    کابل۔ افغان دارالحکومت کابل میں اتوار کے دن ہوئے ایک خود کش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 57 ہو گئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      کابل۔ افغان دارالحکومت کابل میں اتوار کے دن ہوئے ایک خود کش بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 57 ہو گئی ہے۔ ایک ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر کیے گئے اس حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبول کر لی ہے۔ طبی حکام نے بتایا ہے کہ اس خونریز کارروائی میں 199 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔


      بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے عام شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے قومی شناختی کارڈ وصول کرنے کے لیے رجسٹریشن سینٹر کے باہر موجود تھے۔ ہلاک شدگان میں پانچ بچے اور بیس خواتین بھی شامل ہیں۔ افغانستان میں اس سال اکتوبر میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے تیاریاں شروع کی جا چکی ہیں۔


      یہ دھماکہ مغربی کابل کے دشت بارچي علاقے میں واقع ایک انتخابی رجسٹریشن مرکز کے باہر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اقلیتی شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کی اکثریت ہے۔ گزشتہ ہفتے دوسرے ووٹر رجسٹریشن مراکز پر بھی اسی طرح کے حملے ہوئے تھے۔






      قابل ذکر ہے کہ کابل میں گزشتہ کئی ہفتے کی خاموشی کے بعد یہ بڑا حملہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد اس سال اکتوبر میں ہونے والے ضلع کونسل اور پارلیمانی انتخابات میں خلل ڈالنا ہے۔ افغانستان میں صدر اشرف غنی کی مغرب حمایت یافتہ حکومت پر اس سال انتخابات کرانے کے لئے کافی دباؤ ہے، جس کے لئے مختلف علاقوں میں شہریوں کا ووٹر شناختی کارڈ بنانے کا کام تیزی سے انجام دینے کے لئے ووٹر رجسٹریشن مراکز بنائے گئے ہيں ۔ مگر داعش اور طالبان جنگجوؤں کی طرف سے انتخابی مراکز کو نشانہ بنائے جانے کے پیش نظر اب پارلیمانی انتخابات کو مزید ملتوی کیا جا سکتا ہے۔





      First published: