உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا ڈیلٹا پلس (Delta Plus) موت کا سبب بن رہا ہے؟ آنے والے مہینے ہوسکتے ہیں انتہائی سنگین!

    ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (AIIMS director Dr Randeep Guleria) نے کہا ہے کہ ’’نئی قسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جس سے یہ تجویز کیا جاسکتا ہے کہ یہ زیادہ متعدی بیماری ہے، جس سے زیادہ اموات ہوتی ہیں یا یہ کس طرح مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟‘‘

    ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (AIIMS director Dr Randeep Guleria) نے کہا ہے کہ ’’نئی قسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جس سے یہ تجویز کیا جاسکتا ہے کہ یہ زیادہ متعدی بیماری ہے، جس سے زیادہ اموات ہوتی ہیں یا یہ کس طرح مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟‘‘

    • Share this:
    Delta flightعالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کا ڈیلٹا ویرئینٹ دنیا بھر میں پھیلتا جارہا ہے۔ ایسے میں نئے ‘ڈیلٹا پلس’ (Delta Plus) میوٹنٹ کے بارے میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے اور کچھ ریاستوں میں ہلاکتوں کی اطلاع دی جارہی ہے۔ تاہم ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (AIIMS director Dr Randeep Guleria) نے کہا ہے کہ ’’نئی قسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جس سے یہ تجویز کیا جاسکتا ہے کہ یہ زیادہ متعدی بیماری ہے، جس سے زیادہ اموات ہوتی ہیں یا یہ کس طرح مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟‘‘
    گلیریا نے مشورہ دیا کہ ’’اگر ہم کووڈ کے مناسب طرز عمل پر عمل پیرا ہیں تو ہم ابھرتی ہوئی کسی بھی قسم کے خلاف محفوظ رہیں گے۔ ادھر عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ قدامت پسندی کے اندازوں کے مطابق اب ڈیلٹا سے تقریبا 100 ممالک متاثر ہیں اور متنبہ کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں انتہائی سطح پر دباؤ عالمی سطح پر کورونا وائرس کے پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اپنے کووڈ۔19 ہفتہ وار ایپیڈیمولوجیکل اپ ڈیٹ میں ڈبلیو ایچ او نے 29 جون 2021 کو کہا کہ ’’ 96 ممالک میں ڈیلٹا ویریئنٹ کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، حالانکہ یہ امکان کم ہے کیونکہ ویریئنٹ کی شناخت کے لئے درکار ترتیب کی اہلیت محدود ہے۔ ان ممالک میں سے متعدد ممالک مریضوں کو اس نوعیت کی وجہ سے انفیکشن اور ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح بڑھا رہے ہیں‘‘۔

    ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کے" آنے والے مہینوں میں تیزی سے دیگر اقسام سے نمٹنے اور اس کا غالب اثر ظاہر ہونے خدشہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے نوٹ کیا کہ کورونا وائرس کے انفرادی ، معاشرتی سطح انفیکشن کی روک تھام اور قابو پانے کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے جو اوزار ابھ موجود ہیں وہ ناکافی ہیں‘‘۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: